دارالخلافہ میں صحافیوں پر سرعام حملے،حکومت پر سوالیہ نشان

عبدالمعز جعفری اور حیدر وحید کی مذمت

اسلام آباد میں سماء کے سابق پروڈیوسر اور صحافی اسد طور سمیت دیگر صحافیوں پر سرعام حملوں نے ملک بھر کی صحافی برادری کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

یہ بات سماء کے پروگرام ایجنڈا 360 میں میزبانوں عبدالمعز جعفری اور حیدر وحید نے کہی۔ انہوں نے اسد طور پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عجیب بات ہے کہ ملک کے دارالحکومت میں سرعام ایک صحافی کو 3 نامعلوم افراد بلا خوف و خطر ہاتھ پاؤں باندھ کر زد و کوب کردیتے ہیں۔

پروگرام میں بتایا گیا کہ اسد طور نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ ان پر تشدد کرنے والے افراد پستول سے مسلح تھے اور انہوں نے اسد علی طور کو پستول کے بٹ اور پائپ سے مارا پیٹا جبکہ حملہ کرنے والے افراد نے انھیں ٹھوکریں ماریں اور ان سے زبردستی ’پاکستان زندہ باد کے نعرے لگوائے‘۔

فلیٹ کے سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسد طور پر حملے کرنے والے تینوں افراد چہرے پر ماسک پہنے ہوئے تھے اور انھیں زود و کرب کرنے کے بعد باآسانی فرار ہو گئے۔

اسد علی طور پر حملے کی خبر عام ہونے کے بعد تمام صحافی تنظیموں، سندھ ہائیکورٹ بار ایسوی ایشن سمیت کئی سیاسی رہنماؤں نے بھی مذمت کی تاہم وہیں حال ہی میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے منظور کیے جانے والے قانون کی اہمیت پر بھی سوال اٹھائے جانے لگے۔

اسد طور پر حملے کے بعد وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے حکومت میں آنے کے بعد سے صحافیوں پر حملوں میں کمی آئی ہے اور یہ کہ مغربی میڈیا کی جانب سے ایک طرح کا فیشن بن گیا ہے کہ جب بھی صحافیوں پر تشدد سے متعلق کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو پاکستان کی فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر اس کا الزام عائد کر دیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں لوگوں کی جانب سے ریاستی اداروں پر اس طرح کے الزامات لگا کر ’بیرون ملک امیگریشن لینے کی ایک تاریخ موجود ہے‘۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہمارے یہاں بی بی سی سمیت 43 انٹرنیشنل چینلز ہیں،112 پاکستان کے نجی چینلز جبکہ 258 ایف ایم اور ایک ہزار 569 پرنٹ میڈیا موجود ہے جو اس بات کی دلیل ہے پاکستان میں صحافتی اداروں کو آزادی ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں رواں سال تین صحافیوں بدترین تشدد کا نشانہ بنے جن میں مطیع اللہ جان، ابصار عالم اور اسد طور شامل ہیں۔ پاکستان میں پچھلے 30 سالوں میں 138 صحافی قتل ہوئے اور صرف سال 2020 میں 5صحافیوں کو قتل کیاگیا جبکہ رواں سال تین صحافیوں پر اب تک قاتلانہ ہوچکے ہیں۔

پاکستان میں صحافی خود کو غیرمحفوظ سمجھنے لگے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ اسد طور واقعے کی تحقیقات نہ ہوئیں تو ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں