داسو ڈیم پر کام بند، چینی کمپنی کے پاکستانی ورکرز کا کنٹریکٹ ختم

داسو ڈیم کے ورکرز پر بدھ کے روز ہونے والے حملے کے نتیجے میں چینی کمپنی نے ڈیم پر کام کرنے والے تمام پاکستانی ورکرز کے کنٹریکٹ ختم کردیے ہیں۔
اس حوالے سے چینی کمپنی کی جانب سے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
اردو نیوز کے پاس دستیاب خط کی کاپی کے مطابق ’14جولائی کو ہونے والے دھماکے سے شدید نقصان پہنچا جس کے باعث داسو ڈیم پر کام روکنا پڑ رہا ہے۔’
نوٹیفیکیشن کے مطابق ڈیم پر آپریشن اور دیکھ بھال کرنے والوں کے علاوہ تمام دیگر پاکستانی ورکرز کے کنٹریکٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔  
مزید پڑھیں
پاکستان کے وزارت آبی وسائل کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’سیکیورٹی رسک کی وجہ سے کام روکا گیا ہے جس کی وجہ تمام ورکرز کے کنٹریکٹ منسوخ ہوئے ہیں۔ سیکیورٹی صورتحال بہتر ہونے پر کام دوبارہ بحال ہو جائے گا۔‘
ترجمان وزارت آبی وسائل نے اردو نیوز کو بتایا کہ چینی کمپنی کی جانب سے پراجیکٹ منسوخ نہیں کیا گیا صرف ورکرز کے کنٹریکٹ ہی منسوخ ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان کے علاقے برسین میں بدھ کو ہونے والے بس کے ’حادثے‘ میں چینی شہریوں سمیت 13 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ 
علاوہ ازیں پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے سنیچر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین نے اپنے شہریوں کے لیے مزید سیکیورٹی مانگی ہے جس کی فراہمی کے لیے وزارت داخلہ نے متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایات جاری کی جا چکی ہیں جبکہ وزیراعظم عمران خان نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو چین جانے کی ہدایت کی ہے۔

چین نے حادثے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ فوٹو اے ایف پی
وزیر داخلہ نے کہا کہ داسو واقعے کی تحقیقات حتمی مرحلے میں ہیں۔ ’اس کی تفتیش اعلیٰ سطح پر کی جا رہی ہے اور اب چین کے 15 لوگ تحقیقات میں شامل ہو چکے ہیں۔
یاد رہے کہ چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان زاہو لیجیان نے پریس بریفنگ میں پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ بس میں ہونے والے دھماکے کی مکمل تحقیقات کی جائیں جس میں چینی شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
بدھ کو پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ ’چینی ورکز کو لے کر جانے والی بس تکنیکی خرابی کے باعث گہری کھائی میں جا گری اور اس کے بعد گیس لیکج کے باعث بس میں دھاکہ ہوا۔ اس واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔‘ 
وزارت خارجہ نے اپنی پریس ریلیز میں نو چینی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان اور چین قریبی دوست اور بھائی ہیں۔ پاکستان چینی شہریوں، اداروں اور منصوبوں کی حفاظت کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔‘
اس سے پہلے اسسسٹنٹ کمشنر داسو محمد عاصم عباسی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’اس واقعے میں 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 9 چینی شہریوں کے علاوہ دو ایف سی اہلکار اور دو مقامی باشندے شامل ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 27 ہے۔‘