دل سے دلی: زندگی کیسے بدلی

تو ایک سال گزر ہی گیا۔ گذشتہ برس مارچ آتے آتے یہ لگنے لگا تھا کہ کورونا وائرس ہماری زندگیوں کو ہمیشہ کے لیے بدل دے گا لیکن کس نے سوچا تھا کہ چند ہی دنوں کے اندر ملک کو یوں بند کر دیا جائے گا کہ پرندے بھی گھونسلوں سے باہر نکلتے ہوئے ڈریں گے اور جنگلی جانور شہروں کی سڑکوں پر یوں گھومتے پھریں گے جیسے انسانوں کے زو میں آئے ہوں۔
مارچ کے دوسرے ہفتے میں جلسے جلوسوں اور مجمعوں پر پابندیاں لگائی جانے لگیں اور تیسرا ہفتہ ختم ہوتے ہوتے انتہائی سخت لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں
جو جہاں تھا، وہیں پھنس کر رہ گیا۔ امیروں نے چھٹی منائی، فیملی بانڈنگ کی، ہم جیسوں کی زندگیاں معمول کے مطابق ہی چلتی رہیں لیکن باہر چلچلاتی دھوپ میں سڑکوں پر غریب چلتے رہے۔
لاک ڈاؤن کے ساتھ راتوں رات ان کی زندگیاں بھی تھم گئی تھیں، کام بند، آمدنی بند اور اس بات کا کوئی بھروسہ نہیں کہ اگلے وقت کی روٹی کا انتظام کہاں سے ہوگا۔ اس پر ستم یہ کہ ہر قسم کا ٹرانسپورٹ بھی پوری طرح بند۔
اس لیے وہ پیدل ہی اپنے گھروں کو نکل پڑے۔ ان کی حالت زار دنیا میں دیکھی گئی اور آخرکار حکومت کو پتا چلا کہ ملک میں لاکھوں کروڑوں لوگ اپنے گھروں سے دور رہ کر کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اب خبر ہو گئی تو کچھ تو ان کا بھی بھلا ہوگا۔ کئی ریاستی حکومتوں نے ان کی فلاح کے لیے بلند و بانگ دعوے تو کیے ہیں لیکن اگر بات دعوؤں سے آگے بڑھی تو آپ کو بھی خبر کریں گے۔

 حکومت کو پتا چلا کہ ملک میں لاکھوں کروڑوں لوگ اپنے گھروں سے دور رہ کر کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ (فوٹو: روئٹرز)
لاکھوں لوگوں کی نوکریاں گئیں، لاکھوں کے کاروبار تباہ ہو گئے اور ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگوں نے جان سے ہاتھ دھوئے۔
معیشت کساد بازاری کا شکار ہوئی اور اب تیزی سے واپسی کی راہ پر گامزن ہے۔ گذشتہ سہ ماہی میں برائے نام ہی سہی، معیشت کا حجم گھٹنے کے بجائے بڑھا ہے، جو لوگ بے روزگار اور بے آسرا ہو کر اپنے گھروں کو لوٹ گئے تھے، وہ واپس شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔
دہلی جیسے شہروں سے باہر نکل جائیں تو کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا جس نے ماسک لگا رکھا ہو، وہاں اب بھی لوگ بڑے تپاک سے مصافحہ کرتے ہیں۔ ان کے لیے کورونا وائرس کی یادیں دھندلی پڑ چکی ہیں۔
سبق یہ ہے کہ زندگی کی رفتار کہاں تھمتی ہے۔

جو لوگ بے روزگار ہو کر گھروں کو لوٹ گئے تھے، وہ واپس شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
لیکن ایسا نہیں ہے کہ سب کچھ معمول پر لوٹ آیا ہے۔ کورونا وائرس نے بہت نقصان بھی پہنچایا لیکن کچھ سبق بھی سکھائے۔
لوگوں کو پہلی مرتبہ واقعی یہ احساس ہوا کہ زندگی راتوں رات بدل بھی سکتی ہے اور ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل بھی سکتی ہے۔ سب کا تو نہیں لیکن زندگی کے تئیں بہت سے لوگوں کا نظریہ بدلا اور انہیں لگا کہ سامان بھلے ہی سو برس کے لیے جمع کر رکھا ہو لیکن یہ بھی سچ ہے کہ کل کی خبر نہیں۔
سب سے بڑی تبدیلی شاید دفاتر میں آئی۔ ورک فرام ہوم پہلے صرف ایک خواب تھا، پھر اچانک بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے حقیقت بن گیا اور اب مجبوری۔ کمپنیوں کو سمجھ میں آیا کہ بہت سے ایسے کام ہیں جن کے لیے ملازمین کو دفتر بلانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
انہوں نے آفس سپیس کم کرنی شروع کر دی اور اب بہت سے ایسے ملازمین ہیں جن کے لیے گھر سے کام کرنا درد سر بنتا جا رہا ہے۔
اب انہیں سمجھ میں آ رہا ہے کہ دفتر آنے جانے میں دقت تو ہوتی تھی لیکن گھر سے نکلنا اور دوسرے لوگوں سے ملنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

ورک فرام ہوم پہلے صرف ایک خواب تھا، پھر اچانک لوگوں کے لیے حقیقت بن گیا۔ (فوٹو: ٹائمز آف انڈیا)
جو لوگ اب مستقل اپنے گھروں سے ہی کام کر رہے ہیں، ماہرین فکر مند ہیں کہ ان کی ذہنی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔
سکول اب کھلنا شروع ہوئے ہیں لیکن بڑی تعداد میں والدین بچوں کو واپس بھیجنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہیں شاید یہ معلوم ہو گیا ہے کہ سکولوں میں ویسے بھی بس برائے نام پڑھائی ہوتی ہے۔ اس لیے زیادہ تر کلاسز آن لائن ہی چل رہی ہیں۔ ہمارے گاؤں میں ایک لڑکی گھر میں ہی رہ کر کینیڈا کی ایک یونیورسٹی سے بائیو ٹیکنالوجی میں ماسٹرز کر رہی ہے۔
شادیاں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں، لیکن مہمانوں کی فہرست اب بس انگلیوں پر تیار ہو جاتی ہے۔ شاید کورونا وائرس کی یہ ایک ایسی دین ہے جو معاشرے کے لیے اچھی ثابت ہو سکتی ہے۔
اب ان لوگوں کو نہ بلانے کا اچھا بہانا ہے جنہیں پہلے مجبوری میں دعوت دی جاتی تھی۔ مہمانوں کی تعداد بھی کم اور تقریبات بھی مختصر۔
پہلے شادی کے کارڈ دعوت دینے کے لیے بھیجے جاتے تھے، اب نیا ٹرینڈ یہ ہے کہ شادی ہو جانے کی اطلاع دینے کے لیے بھیجے جا رہے ہیں۔ ایسے کارڈ دیکھ کر واقعی خوشی ہوتی کیونکہ نہ تحفہ پر کچھ خرچ کرنا ہے نہ کہیں آنے جانے پر۔
لیکن بہت سے ایسے کام ہیں جو اب بھی پوری طرح ٹھپ پڑے ہیں۔ شادیوں پر لوگ پیسہ اڑاتے تھے تو پھول والوں سے لے کر بینڈ باجے والوں تک نہ جانے کتنے لوگوں کا کاروبار چلتا تھا۔ ان کا مستقبل تاریکیوں میں گھرا ہوا ہے۔
یہ لوگ اب اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ کیا کریں۔ ان میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو پیدل ہی اپنے گھروں کو چل دیے تھے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے جو ٹیکا لگوایا ہے وہ پوری طرح انڈیا میں ہی تیار کیا گیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایسا نہیں ہے کہ ہم جیسوں کے لیے مسائل نہیں ہیں۔ ہم اس فکر میں گھرے ہوئے ہیں کہ کون سا ٹیکہ لگوائیں۔ حکومت نے دو ٹیکوں کی اجازت دی ہے لیکن ان میں سے ایک کے بارے میں بہت سے لوگوں کو شبہات ہیں کہ اسے جلدبازی میں ہری جھنڈی دکھائی گئی ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے یہ ہی ٹیکہ لگوایا ہے۔ انہیں عوام کو یہ پیغام دینا تھا کہ ٹیکہ محفوظ ہے۔ لیکن عام لوگ کہاں کسی کی بات پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وہ اب بھی اپنے یار دوستوں سے یہ پوچھتے پھر رہے ہیں کہ آکسفورڈ والا ٹیکہ کن ہسپتالوں میں لگایا جا رہا ہے؟
مسٹر مودی نے جو ٹیکا لگوایا ہے وہ پوری طرح انڈیا میں ہی تیار کیا گیا ہے۔ جو ٹیکا زیادہ تر لوگ لگوانا چاہتے ہیں وہ آکسفورڈ اور ایسٹرازینیکا نے مل کر بنایا ہے اور لائسنس کے تحت ہندوستان میں تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ ٹیکا دنیا بھر میں لگایا جا رہا ہے اور بہت سے لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ فخر کی بات نہیں ہے کہ انڈیا میں بنایا جانے والا ٹیکہ پوری دنیا میں ایکسپورٹ کیا جا رہا ہے؟
بہرحال خطرہ ابھی پوری طرح ٹلا نہیں ہے۔ گذشتہ دو ہفتوں سے کئی ریاستوں میں کیسز پھر بڑھ رہے ہیں۔ زیادہ نہیں لیکن اتنے تو ہیں ہی کہ یہ سوال دوبارہ پوچھا جانے لگا ہے کہ کہیں یہ دوسری ’لہر‘ کی شروعات تو نہیں ہے؟
لیکن اس مرتبہ وہ خوف نہیں ہے جو گذشتہ برس مارچ میں تھا۔ اب دشمن کو دیکھا اور پرکھا جا چکا ہے۔ اور عام رائے یہ ہے کہ اس سے نمٹا جا سکتا ہے۔
بس احتیاط جاری رکھیے ورنہ امریکہ کی مثال بھی آپ کے سامنے ہے۔ وہاں حفظان صحت کا بہترین نظام ہونے کے باوجود پانچ لاکھ سے زیادہ لوگ مر چکے ہیں۔