دل سے دلی: شطرنج کے کھلاڑی

زندگی میں ہم جو بھی فیصلے کرتے ہیں وہ زندگی بھر ہمارے ساتھ رہتے ہیں۔ بات ذرا گہری ہے لیکن زندگی کچھ شطرنج کی بساط کی طرح ہے، ایک غلط چال چلی نہیں کہ بازی ختم۔
اس کے بعد آپ جتنا چاہیں بات کو گھسیٹتے رہیں: میرا دھیان کہیں اور تھا، میں رات کو ٹھیک سے سویا نہیں تھا، میں تو مذاق کر رہا تھا۔۔۔ لیکن چڑیا کے کھیت چُگ جانے کے بعد پچھتانے سے کیا ہوتا ہے۔
یہ تو سبق ہے، لیکن کہانی کیا ہے؟
شطرنچ کے گرینڈ ماسٹر وشوناتھن آنند پانچ مرتبہ عالمی چیمپئین رہ چکے ہیں اور ان کا شمار تاریخ کے بہترین کھلاڑیوں میں کیا جاتا ہے۔عالمی سٹیج پر ان کی کامیابیوں سے انڈیا میں شطرنج کے ہزاروں نوجوان کھلاڑیوں نے تحریک حاصل کی ہے۔ بس ان کا امیج ایسا ہے جیسے ٹینس میں راجر فیڈرر کا۔
مزید پڑھیں
نکھل کامٹھ کی عمر صرف 33 برس ہے اور وہ ایک آن لائن سٹاک ٹریڈنگ پلیٹ فارم کےمالک ہیں۔ ان کی کمپنی زیروڈھا کی مالیت ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے اور یہ کمپنی انہیں اپنے باپ دادا سے وراثت میں نہیں ملی، انہوں نے صرف 10 سال میں اسے ایک سٹارٹ اپ سے ایک ارب ڈالر کی مالیت تک پہنچایا ہے۔
انگریزی میں ایسی کمپنیوں کو یونی کارن کہتے ہیں، یہ ایک انتہائی مخصوص کلب ہے جس میں شامل ہونے والوں کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انڈیا میں 95 فیصد سٹارٹ اپ کمپنیاں پانچ سال کے اندر ہی بند ہو جاتی ہیں۔
سٹارٹ اپ شروع کرنے والوں کے پاس کوئی غیر معمولی آئیڈیا بھی ہوتا ہے اور اسے عملی جامہ پہنانے کا وژن بھی، لیکن جو سٹارٹ اپ ناکام ہوتی ہیں اکثر ان کے آئیڈیا میں ہی کہیں کوئی کمی ہوتی ہے۔
یہ تھا تھوڑا بیک گراؤنڈ، تو وشوناتھن آنند اور نکھل کامٹھ کا آپس میں کیا لینا دینا ہے۔ دونوں کی دنیا بالکل الگ ہے لیکن بظاہر دونوں کا دل غریبوں کے لیے دھڑکتا ہے۔
دونوں نے غریبوں کی امداد کے لیے ایک چیریٹی میچ میں حصہ لیا جس میں فلم سٹار عامر خان اور بالی وڈ اور سپورٹس کی دنیا کی کئی ممتاز شخصیات بھی شامل تھیں۔ وشوناتھن آنند ان سب سے ایک ساتھ کھیل رہے تھے۔

وشوناتھن آنند کو ہرانا بس ایسے ہی ہے جیسے محمد علی کو باکسنگ میں ناک آؤٹ کرنا۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
یہاں تک تو سب ٹھیک تھا لیکن پھر مقابلے میں ڈرامائی موڑ آیا اور نکھل کامٹھ نے کچھ ایسی چالیں چلنا شروع کیں کہ لوگ دیکھتے رہ گئے اور آخرکار وشوناتھن آنند نے شکست تسلیم کر لی۔
اب وشوناتھن آنند کو ہرانا بس ایسے ہی ہے جیسے ہم رستم ہند کو کشتی میں چِت کر دیں یا محمد علی کو باکسنگ میں ناک آؤٹ۔ یہ کام خوابوں میں بھی نہیں ہوتا۔
اس لیے کچھ سوال اٹھنا شروع ہوگئے۔ جس ویب سائٹ پر یہ میچ کھیلا گیا تھا اس کے ماہرین نے بھی میچ کا تجزیہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کے نکھل نے بے ایمانی کی ہے۔اور چیس ڈاٹ کام نے چند ہی گھنٹوں بعد ان کا اکاؤٹ بند کردیا۔ پھر نکھل نے ٹوئٹر پر اعتراف کیا کہ مقابلے کے دوران وہ شطرنج کے ماہرین اور کمپیوٹروں کی مدد لے رہے تھے اور ساتھ میں حیرت ظاہر کی کہ لوگوں نے یہ کیسے مان لیا کہ وہ ’آنند سر‘ کو ہرا سکتے ہیں۔ انہوں نے تو یہ صرف مزے کے لیے کیا تھا اور اس وقت انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ بات اتنی بڑھ جائے گی۔

 جب بھی لوگ نکھل کا ذکر کریں گے تو زیروڈھا کی نہیں آنند کے ساتھ ان کی شطرنج کی بازی کی تصویر ذہن میں آئے گی۔ (فوٹو: نکھل کاٹھ فیس بک)
بعد میں آنند نے کہا کہ ‘بازی کے دوران کامٹھ نے ایک بھی غلط چال نہیں چلی۔آنند کو احساس تو ہو ہی گیا ہوگا کہ کچھ گڑبڑ ہے، وہ سوتے جاگتے یہ ہی کام کرتے ہیں۔ لیکن انہوں نے کچھ کہا نہیں۔ بس اتنا ضرور کہا کہ میں بساط پر جو پوزیشن دیکھ رہا تھا اسی کے مطابق کھیل رہا تھا اور مجھے امید تھی کہ باقی لوگ بھی ایسا ہی کر رہے ہوں گے۔’
نکھل کامٹھ کے آن لائن ٹریڈنگ پلیٹ فارم کا پورا بزنس ماڈل بھروسے پر ٹکا ہوا ہے۔ انہوں نے ایک بازی تو جیت لی لیکن اب سوچ رہے ہوں گے کہ کیا یہ جیت زندگی بھر کے لیے ان کی شخصیت کی پہچان بن جائے گی؟
 جب بھی لوگ ان کا ذکر کریں گے تو زیروڈھا کی نہیں آنند کے ساتھ ان کی شطرنج کی بازی کی تصویر ذہن میں آئے گی۔
ہو سکتا ہے کہ لوگ بھول جائیں لیکن خود نکھل نہیں بھول پائیں گے۔ اس کہانی میں ان کے لیے بھی سبق ہے اور ان باقی سب لوگوں کے لیے بھی جو سمجھتے ہیں کہ سب چلتا ہے۔

زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس چیریٹی میچ سے صرف 12 لاکھ روپیے جمع ہوئے۔ (فوٹو: فری پِک)
لیکن اپنی سمجھ سے یہ بات باہر ہے کہ آپ اگر کوئی اچھا کام کرنے نکلے ہیں تو اس کے لیے کوئی غلط راستہ کیوں اختیار کریں گے؟ اور یہ سوچ لینا کہ کسی کو پتا نہیں چلے گا، یہ اس سے بھی بڑی حماقت تھی۔
ایسا کون ہے جو سوچتا کہ آج آنند فارم میں نہیں تھے اس لیے نکھل سے ہار گئے، کبھی کبھی ہوتا ہے، دماغ میں کچھ اور چل رہا ہوگا۔ شطرنج لوڈو کی طرح نہیں ہے کہ پانسا پھینکا اور آگے بڑھ گئے۔
اور ہاں نکھل آپ نے کہا کہ ‘میرے لیے آنند سر سے جیتنا ایسے ہی ہے کہ میں 100 میٹر کی دوڑ میں اوسین بولٹ کو ہرا دوں، اس بات پر کون یقین کرے گا۔’
بالکل صحیح بات ہے، کسی نے یقین کیا بھی نہیں۔ لیکن اگر آپ میچ کے فوراً بعد بھی اعتراف کر لیتے تو شاید لوگ کہتے کہ آئیڈیا تو فلاپ تھا لیکن نیت ٹھیک تھی۔
نکھل آپ نوجوان ہیں۔آپ کو گاؤں دیہات کی ایک مثال بتاتے ہیں۔ یہ عشق معاشقے صرف شہروں میں ہی نہیں ہوا کرتے۔

نکھل نے کہا کہ ‘میرے لیے آنند سر سے جیتنا ایسے ہی ہے کہ میں سو میٹر کی دوڑ میں اوسین بولٹ کو ہرا دوں۔’ (فائل فوٹو: روئٹرز)
گاؤں دیہات میں بھی جواں سال لڑکے لڑکیوں کو محبت ہوتی ہے۔ لیکن وہاں ایک دوسرے سے ملنے کے مواقع کم ہوتے ہیں اس لیے لڑکے لڑکیاں اپنی چھتوں پر کھڑے ہوکر اشاروں اشاروں میں بات کرلیتے ہیں یا موبائل کے زمانے سے پہلے کیا کرتے تھے۔
وہ بھری دوپہر میں چھت پر آتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ سب سو رہے ہوں گے اور کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کس مشن پر نکلے ہوئے ہیں۔ لیکن پتا سب کو ہوتا ہے، بس انہیں یہ پتا نہیں ہوتا کہ سب کو پتا ہے۔
اس لیے پلیز شطرنج کے کھلاڑیوں کا مذاق مت اڑائیے۔ آپ نے بے وقوفی کی بس مان لیجیے، اگر ایسا کرنے سے پہلے آپ نے اس کے مضمرات کے بارے میں سوچا ہوتا تو شاید آپ کچھ اور چال چلتے، بازی بھلے ہی ہار جاتے لیکن شرمندگی سے بچ جاتے۔
خیر آپ جانیں اور آپ کا کام۔
لیکن اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس چیریٹی میچ سے صرف 12 لاکھ روپیے جمع ہوئے۔ بالی وڈ، سپورٹس اور بزنس کے اتنے بڑے نام ایک پلیٹ فارم پر آئے اور صرف 12 لاکھ روپیے جمع کر سکے؟
کچھ باتیں واقعی سمجھ سے باہر ہوتی ہیں۔