دل سے دلی: چالیس ہزار سال پہلے

آر ایس ایس کا نام تو آپ نے سنا ہی ہوگا، ہاں وہی بی جے پی کی سرپرست نظریاتی تنظیم جس کے وجود کا نصب العین ہندوتوا کے ایجنڈے کو فروغ دینا ہے اور جو اپنی توانائی کا ایک بڑا حصہ یہ ثابت کرنے میں لگاتی ہے کہ انڈیا میں رہنے والے مسلمانوں اور ہندوؤں کے آباؤ اجداد ایک ہی تھے، مطلب پہلے سب ہندو ہی تھے پھر باہر سے مسلمان حملہ آور آئے اور انہوں نے کچھ کو زور زبردستی اور کچھ کو بہلا پھسلا کر مسلمان کر لیا۔
اس لیے آر ایس ایس والے ’گھر واپسی‘ کا پروگرام چلاتے ہیں، یہ ان لوگوں کو گھر واپس لانے کی کوشش ہے جو کسی بھی وجہ سے ہندو مذہب چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
مزید پڑھیں
انڈیا میں بہت سے لوگ اس بات سے بہت پریشان ہوتے ہیں لیکن کیوں یہ بات اپنی سمجھ سے باہر ہے۔ یہاں سوا ارب سے زیادہ کی آبادی ہے اور اس میں تقریباً 14 فیصد مسلمان ہیں۔ دو چار ہزار گھر چھوڑ کر آجائیں یا چلے جائیں، کیا فرق پڑتا ہے۔ عقیدہ پختہ ہے تو کوئی کہیں نہیں جاتا، نہیں ہے تو کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔
بہرحال، آر ایس کے سربراہ موہن بھگوت نے اب کہا ہے کہ چالیس ہزار سال پہلے ہمارے آباؤ اجداد ایک ہی تھے۔ ہمیں نہیں لگتا ہے کہ اس بات پر کسی کو اعتراض ہو سکتا ہے کیونکہ جہاں تک ہمیں معلوم ہے سب کے آباؤاجداد ایک ہی تھے۔ پھر وہ الگ الگ راستوں پر چل پڑے اور الگ الگ علاقوں میں جا کر بس گئے۔
انسان کی موجودہ نسل کی تاریخ پھر کبھی، کیونکہ یہ بات ذرا پرانی ہے، فی الحال صرف موہن بھگوت کے بیان کا تھوڑا تجزیہ کیونکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انڈیا میں نہ ہندوؤں کی اجارہ داری ہوسکتی ہے اور نہ مسلمانوں کی، غلبہ ہو سکتا ہے تو صرف ہندوستانیوں کا۔
یہ غیر معمولی بیان ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو یہ فکر نہیں ہونی چاہیے کہ یہاں اسلام خطرے میں ہے۔
یہ بھی غیر معمولی بیان ہے۔

آر ایس ایس ہندو مذہب چھوڑنے والوں کے لیے ’گھر واپسی‘ کا پروگرام چلاتی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
لیکن اپنی اس تقریر میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں ہندوستانی مسلمان یہاں سے چلے جائیں وہ ہندو ہی نہیں ہیں۔ اس لیے لگتا ہے کہ یہ صرف ایک روز مرہ کی تقریر نہیں تھی، بلکہ ایک پیغام تھا، ہندوؤں کے لیے بھی اور مسلمانوں کے لیے اور اسے سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے کیونکہ عین ممکن ہے کہ یہ آر ایس ایس کے اندر کسی نظریاتی تبدیلی کا عکاس ہو۔
آر ایس ایس حکمراں بی جے پی کی سرپرست نظریاتی تنظیم ہے۔ پالیسی کے لحاظ سے وہ جس سمت کا تعین کرتی ہے، بی جے پی اکثر اسی پر عمل کرتی ہے۔
اس طرح کے بیان ماضی میں بھی دیے گئے ہیں، جیسے مثال کے طور پر موہن بھگوت نے ہی کچھ روز پہلے کہا تھا کہ دستور ہند میں کہیں یہ نہیں لکھا ہے کہ ہندوستان میں صرف ہندو رہ سکتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آزادی کے 75 سال بعد کسی رہنما کو اس طرح کی یقین دہانی کرانا پڑی۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ بات آر ایس ایس کے سربراہ کی زبان سے آئی ہے، اس لیے بہت امکان ہے کہ حکومت کے گلیاروں میں بھی سنجیدگی سے سے سنی جائے گی۔
تو سوال یہ ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا؟ کیا آر ایس ایس ایک بڑی نظریاتی تبدیلی کی طرف گامزن ہے؟ یا پھر کہیں کسی کو یہ لگا کہ عالمی برادری میں یہ تاثر گھر کر رہا ہے کہ انڈیا میں اقلیتوں کے لیے گنجائش تنگ سے تنگ تر ہوتی جا رہی ہے اور انڈیا کی امیج کے لیے یہ بری خبر ہے خاص طور پر اس لیے کہ انڈیا عالمی سٹیج پر قائدانہ رول ادا کرنا چاہتا ہے۔

انڈیا کی سوا ارب سے زیادہ کی آبادی میں تقریباً 14 فیصد مسلمان ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
یا پھر جیسا موہن بھگوت نے کہا کہ جب تک مذہبی اتحاد نہ ہو ترقی ممکن نہیں ہے۔ کسی حمتی نتیجے پر پہنچنا تو فی الحال قبل از وقت ہوگا لیکن لگتا یہ ہی ہے کہ ان کا بیان کئی عوامل کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔
ان کے بیانات سے ایک واضح رحجان ضرور نظر آتا ہے، ایک ایسا پیٹرن جس سے لگتا ہے کہ شاید سنگھ پریوار میں ہندوتوا کے ایجنڈے پر عمل اور اس کے فوائد کے مجموعی سوال پر نظر ثانی ہو رہی ہے۔
یا کم سے کم آر ایس ایس کے سربراہ کو لگتا ہے کہ ہندوتوا کے ایجنڈے سے جو سیاسی فائدہ اٹھایا جاسکتا تھا وہ اٹھایا جاچکا ہے، بی جے پی سات سال سے اقتدار میں ہے اور کئی ایسے کام جو زمانے سے اس کی وش لسٹ میں تھے، پورے کیے جاچکے ہیں۔
یہ فہرست لمبی ہے لیکن اگر صرف دو مثالیں دی جائیں تو آپ رام مندر کی تعمیر اور کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے فیصلوں کو اس فہرست میں شامل کر سکتے ہیں۔

موہن بھگوت نے کہا تھا کہ دستور ہند میں کہیں نہیں لکھا ہے کہ ہندوستان میں صرف ہندو رہ سکتے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
وثوق کے ساتھ کہنا مشکل ہے لیکن آئندہ چند دنوں میں وہ کیا کہتے ہیں اس سے واضح اشارہ ملے گا کہ یہ تقریر صرف مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے تھی یا واقعی نظریے میں کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ اور خود سنگھ پریوار کے اندر اس تقریر پر کیا ردعمل ہے۔
آر ایس ایس کے بہت ڈسپلنڈ تنظیم ہے، سرخیوں سے دور رہنا پسند کرتی ہے اور اس کے رہنما کوئی ایسی بات نہیں کہتے جو تنظیم کی نظریاتی بنیاد سے ہم آہنگ نہ ہو۔
اس لیے اگر واقعی یہ سب صرف لفظی جمع خرچ ثابت ہوا تو موہن بھگوت کے لیے بھی سیوڈو سیکولر کا لقب استعمال کیا جاسکے گا۔ یہ لال کرشن اڈوانی کی ایجاد تھی اور وہ ہمیشہ کانگریس پر فرضی سیکولرزم پر عمل کرنے اور مسلمانوں کی خوشنودی کا الزام لگاتے تھے۔
اگر نہیں تو یہ ہندوستان اور یہاں رہنے والی اقلیتوں کے لیے اچھی خبر ہے۔