دل سے دِلی: امید پر دنیا قائم ہے

اس وقت انڈیا کے سامنے شاید سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے ٹیکے کہاں سے آئیں گے اور کہاں جائیں گے، مطلب پہلے کسے لگائے جائیں؟
انڈیا دنیا کی فارمیسی کے نام سے مشہور ہے۔ جب امریکہ میں کوروناوائرس سے تباہی مچی ہوئی تھی اور روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ مر رہے تھے، تو انڈیا نے ہی امریکہ کو بڑی تعداد میں ہائیڈروکسی کلوروکوئین کی گولیاں سپلائی کی تھیں۔
یہ دوائی کسی کام نہیں آئی یہ الگ بات ہے لیکن اس وقت بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ ہائیڈروکسی کلوروکوئین سے کووڈ کی شدت کو کم کیا جاسکتا ہے۔
بیماری نئی تھی اور دنیا بھر میں طرح طرح کے نسخے آزمائے جارہے تھے۔ اینٹی وائرل ڈرگز، پلازما تھیرپی اور نہ جانے کیا کیا۔
مزید پڑھیں
انڈیا میں گذشتہ ہفتے تک پلازما تھیراپی کونسل فار میڈیکل ریسرچ کے تجویز کردہ طریقہ علاج میں شامل تھی حالانکہ دنیا کے بڑے بڑے ماہرین اور یہاں انڈیا میں بھی بہت سے ڈاکٹر کب سے کہہ رہے تھے کہ پلازما تھیرپی کی افادیت کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔
خیر ’دیر آید درست آید‘ لیکن یہ بات ہمیشہ صادق نہیں اترتی۔ کچھ کام اگر وقت پر نہ کیے جائیں تو بہت دیر ہو جاتی ہے۔ جیسے کہ ٹیکوں کا انتظام، ٹیکے بنانے کی صلاحیت کا سوال ہو تو دنیا کا کوئی ملک انڈیا کے آس پاس بھی نہیں آتا لیکن اس کے باوجود اس کی ویکسین پالیسی کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

اس وقت کورونا کی وجہ سے انڈیا کو تشویشناک صورت حال کا سامنا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ملک بھر میں ویکسین کی شدید قلت ہے اور جہاں سے بھی یہ خبر ملتی ہے کہ ٹیکے لگائے جا رہے ہیں، لوگ بڑی تعداد میں پہنچنا شروع پوجاتے ہیں۔
لیکن کورونا وائرس کی طرح ٹیکے بھی نظر نہیں آتے۔ انڈیا میں اب تک تقریباً بیس کروڑ لوگوں کو کم سے کم ایک ٹیکہ لگایا جاچکا ہے۔ یہ بہت بڑی تعداد ہے لیکن سوا ارب لوگ ابھی باقی ہیں اور اگر وبا پر قابو پانا ہے تو ملک کی تقریباً ستر فیصد آبادی کو ٹیکے لگانے ہوں گے۔
یہ ٹیکے آئیں گے کہاں سے؟ انڈیا میں اس وقت دو ٹیکے بنائے جا رہے ہیں اور تیسرا بنانے کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں لیکن یہ تینوں کمپنیاں مل کر بھی انڈیا کی ضرورت پوری نہیں کر سکتیں۔
اگر ان کے سہارے رہے تو ماہرین کے مطابق سب کو ٹیکے لگانے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

انڈیا میں اب تک تقریباً بیس کروڑ لوگوں کو ایک ایک ٹیکہ لگایا جا چکا ہے (فوٹو: روئٹرز)
تب تک بہت سے لوگوں کے لیے بہت دیر ہوچکی ہوگی۔ تو پھر کیوں نہ ٹیکے امپورٹ کر لیے جائیں؟ ارے، اس کے لیے تو اب بہت دیر ہوگئی ہے۔ دنیا کے امیر ترین ممالک نے گذشتہ برس ہی اتنے بڑے بڑے آرڈر دے دیے تھے کہ ٹیکے بنانے والی بڑی کمپنیوں کے پاس سانس لینے کی فرصت نہیں ہے اور یہ آرڈر اس وقت دیے گئے تھے جب کسی کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ٹیکے کامیاب بھی ہوں گے یا نہیں۔
لیکن جب خطرہ بڑا ہو تو اپنے دفاع کے لیے تھوڑا خطرہ خود بھی اٹھانا ہی پڑتا ہے۔ جن ملکوں نے دور اندیشی سے کام لیا ان کے پاس اب اپنی ضرورت سے کہیں زیادہ سٹاک موجود ہیں۔
جو انتظار کرتے رہے وہ اب غیر ملکی کمپنیوں کے دروازے کھٹکٹا رہے ہیں۔ سبق صرف یہ ہے کہ پالیسی بنانے یا کوئی بڑا فیصلہ کرنے یا نہ کرنے سے پہلے دو چار مرتبہ سوچ لینا چاہیے۔
یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے کہ انڈیا کو تین سے چار ارب ٹیکوں کی ضرورت ہوگی، یہ حساب تو ہم جیسے لوگوں نے بھی لگا لیا تھا۔
تو اتنے ٹیکے کہاں سے آئیں گے اور ان کے آنے میں کتنا وقت لگے گا یہ سمجھنا زیادہ مشکل کام نہیں ہونا چاہیے تھا۔ آپ کھانے کا انتظام کرنے اس وقت نہیں بھاگتے جب بارات دروازے پر آجاتی ہے۔

وبا پر قابو پانا ہے تو ستر فیصد آبادی کو ٹکے لگانا ہوں گے (فوٹو: اے ایف پی)
بات صرف اتنی ہے کہ اگر جواب دہی ہو تو لوگ دماغ پر زور بھی ڈالیں۔ جواب تو ہر بات کا موجود ہے، جواب دہی کسی بات کی نہیں۔
ذرا سوچیے کہ ٹیکہ لگوانے کے لیے لوگوں کو کن مراحل سے گزرنا پڑرتا ہے۔
پہلے آپ کو اپنے سمارٹ فون پر ایک ایپ ڈاؤن لوڈ کرنا پڑتی ہے۔ اس پر رجسٹریشن کرائیں اور اپوائنٹمنٹ بک کریں اور جا کر ٹیکہ لگوالیں۔ سننے میں کافی آسان لگتا ہے۔
ہم جیسوں کے لیے سسٹم اچھا تھا لیکن ستر فیصد ہندوستان دیہی علاقوں میں رہتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کے پاس سمارٹ فون اور انٹرنیٹ نہیں ہیں۔ جن کے پاس ہیں ان میں سے بہت سوں کو نہیں معلوم کہ ایپ کیا ہوتی ہے، اور جنہیں معلوم ہے ان میں سے بہت سوں کو انگریزی نہیں آتی۔
 کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال بہت اچھی بات ہے لیکن ساتھ ہی عقل کا استعمال بھی کیا جائے تو کیا کہنے۔

بظاہر کوئی کمپنی اس پوزیشن میں نہیں کہ انڈیا کو بڑی مقدار میں ویکسین فراہم کر سکے فوٹو: اے ایف پی
حکومت نے اب کہا ہے کہ آپ سیدھے سینٹر جا کر بھی رجسٹریشن کرسکتے ہیں۔ بھائی، سب کو ٹیکے لگانے ہیں تو اس کا طریقہ اتنا آسان ہونا چاہیے کہ لوگ خوشی سے جا کر ٹیکہ لگوا لیں۔ اب راستہ ذرا سہل ہوا ہے تو ٹیکے نہیں ہیں۔
سب بالغوں کے لیے ٹیکے کھولنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس وقت اتنی کنفیوژن ہے کہ بس، ریاستوں اور وفاقی حکومت میں مستقل ایک رسہ کشی کا عالم ہے۔
ریاستیں کہتی ہیں کہ سپلائی بڑھاؤ، وفاقی حکومت نے کہہ دیا ہے کہ جا کر خود خرید لو، غیر ملکی کمپنیوں نے کہہ دیا ہے کہ ہم تو صرف وفاقی حکومت سے ہی بات کریں گے اور سونے پہ سہاگا یہ کہ جیسا میں نے پہلے کہا، بظاہر کوئی بھی کمپنی اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ فوری طور پر انڈیا کو بڑی مقدار میں ٹیکے فراہم کر سکے۔
کچھ مشکل وقت تو گزر گیا ہے، کچھ اور گزر جائے گا۔ وہ وقت بھی آئے گا جب ہر گلی محلے کے ڈاکٹر کے پاس جاکر آپ ٹیکہ لگوا سکیں گے۔ کب آئے گا فی الحال کہنا مشکل ہے لیکن امید پر دنیا قائم ہے۔