دنیا بھر میں بڑھتی قیمتوں کے خلاف احتجاج، ’یہ بڑھتا ہی رہے گا‘

ہفتہ 25 جون 2022 14:50

جی سیون ملکوں کا سالانہ اجلاس اس ہفتے کے آخر میں جرمنی میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی قیمتوں، پیٹرول کے مہنگا ہونے اور تنخواہوں کے نہ بڑھنے کے باعث پوری دنیا میں لوگ متاثر ہوئے ہیں اور مہنگائی کے خلاف احتجاج اور کارکنوں کی ہڑتال کی لہر آئی ہے۔
مزید پڑھیں
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صرف رواں ہفتے کے دوران پاکستان میں اپوزیشن، زمبابوے میں نرسوں، بیلجیئم میں یونین ورکرز، برطانیہ میں ریلوے ملازمین، ایکواڈور میں قدیم مقامی باشندوں، امریکہ میں سینکڑوں پائلٹ اور یورپین ایئرلائنز کے بعض کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کیے۔
سری لنکا کے وزیراعظم نے ہفتوں کے سیاسی انتشار کے بعد بدھ کو معیشت کے دیوالیہ ہو جانے کا اعلان کیا۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ یوکرین پر روس کے حملے نے توانائی، کھاد، اناج اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر کے افراط زر کو بڑھایا۔
یوکرین اور روس وہ خطہ ہے جہاں کے کسان دنیا کے لیے اہم فصلیں اگانے اور برآمد کرتے ہیں جو جنگ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
اشیائے خورد ونوش کی قیمتیں بڑھنے سے افراط زر بڑھتا ہے جس سے عدم مساوات اور امیر و غریب کے درمیان خلیج کے وسیع ہونے کا خطرہ حقیقت کا روپ دھارتا ہے۔
انسداد غربت تنظیم آکسفیم میں عدم مساوات کی پالیسی کے سربراہ میٹ گرینجر نے کہتے ہیں کہ ’ہم سب اس میں ایک ساتھ نہیں ہیں۔ کتنے امیر ترین لوگ جانتے ہیں کہ ایک روٹی کی قیمت کیا ہے؟ وہ واقعی نہیں جانتے، قیمت جو بھی وہ سہہ لیتے ہیں۔‘
آکسفیم دنیا کے سرکردہ صنعتی ممالک کے گروپ جی سیون سے مطالبہ کر رہا ہے کہ ترقی پذیر معیشتوں کو قرضوں میں ریلیف فراہم کیا جائے اور اضافی منافع پر کارپوریشنوں سے مزید ٹیکس لیا جائے۔
جی سیون ملکوں کا سالانہ اجلاس اس ہفتے کے آخر میں جرمنی میں منعقد کیا جا رہا ہے۔
میٹ گرینجر نے کہا کہ ’یہ صرف ایک تنہا بحران نہیں ہے۔ یہ ایک خوفناک وبائی بیماری کے بعد آ رہا ہے جس نے دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات کو ہوا دی، مجھے لگتا ہے کہ ہم احتجاج کو بڑھتا دیکھیں گے۔‘ 

کئی ملکوں میں ٹریڈ یونینز بڑھتی قیمتوں کے مطابق تنخواہیں بڑھانے کے لیے احتجاج کر رہی ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
احتجاج اور مظاہروں کے بعد حکومتوں نے یوٹیلیٹی بلوں میں سبسڈی اور ایندھن کے ٹیکسوں میں کٹوتیوں جیسے امدادی اقدامات سے شہریوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے تاہم اس کے مثبت اثرات کم ہیں کیونکہ توانائی کی منڈیاں غیر مستحکم ہیں۔
متعدد ملکوں میں مرکزی بینک شرح سود میں اضافہ کرکے افراط زر کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کئی ممالک میں ہڑتال کرنے والے کارکنوں کی یونینز نے آجروں پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مطابق اجرتوں میں اضافے پر مذاکرات کریں۔