دنیا بھر میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرے

دنیا بھر میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے لندن سمیت مسلم ممالک کویت، عمان، پاکستان، تیونس، اردن اور ترکی میں مظاہرے کیے گئے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق لندن میں وزیراعظم بورس جانسن کی رہائش گاہ ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر مظاہرین اسرائیلی عدالت کے مشرقی یروشلم کے علاقے شیخ جراح سے فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھروں سے نکالنے کے فیصلے کے خلاف اکٹھے ہو گئے۔
مزید پڑھیں
تاہم اسرائیلی سپریم کورٹ نے گذشتہ پیر کو ’حالات‘ کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ موخر کر دیا ہے، جو درجنوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکلنے پر مجبور کر سکتا تھا۔
حالیہ تشدد کا آغاز اس وقت ہوا جب اسرائیل نے وہ مقبول مقام بند کر دیا جہاں مسلمان روایتی طور پر رمضان میں روزے کے بعد رات کو اکٹھے ہوتے تھے۔

فلسطینیوں پر اسرائیلی حملوں کے خلاف پوری دنیا کے عوام سراپا احتجاج ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل نے بعد ازاں پابندیوں کو ختم کر دیا لیکن شیخ جراح سے فلسطینیوں کو نکالنے کے منصوبے کی وجہ تناؤ کے دوران جلد ہی جھڑپوں کا آغاز ہو گیا۔
یروشلم میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر پورے خطے پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
اردن میں مظاہرین نے اسرائیلی سفارت خانے کے باہر جمع ہو کر اسرائیلی پرچم کو نذر آتش کر دیا اور ’شرم کرو‘، ’سفارت خانہ اب بھی یہی ہے‘ اور ’اسرائیل کی موت‘ کے نعرے لگائیں۔

لندن میں برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔ (فوٹو: عرب نیوز)
فلسطینیوں کی منگل کی شام کو اسرائیلی افسران کے ساتھ پھر جھڑپیں ہوئی لیکن گذشتہ راتوں کی نسبت ان کی شدت میں کمی تھی۔
جھڑپوں کے حوالے سے 24 سالہ فلسطینی شخص سراج کا کہنا ہے کہ پولیس کی طرف سے چلائی ربڑ کی گولی نے انہیں اندرونی چوٹ پہنچائی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’انہوں نے سب نوجوان اور بوڑھے افراد کو گولیاں ماری۔‘
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ ’وہ بڑے پیمانے پر پرامن فلسطینی مظاہرین کے خلاف طاقت کا سخت اور بہیمانہ استعمال کر رہا ہے۔‘