دنیا میں ’قحط جیسے حالات‘ میں رہنے والوں کی تعداد میں 6 گنا اضافہ

برطانیہ کی ایک غیر سرکاری تنظیم اوکس فیم کے مطابق گذشتہ برس دنیا بھر میں بھوک میں اضافہ ہوا اور اس سے ’قحط جیسے حالات‘ میں رہنے والے افراد کی تعداد 2019 کے مقابلے میں چھ گنا بڑھ گئی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعے کو اوکس فیم کی جانب سے بتایا گیا کہ ’کورونا وائرس کی وبا کے باعث دنیا بھر میں ہونے والے تنازعات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بڑھ گئے ہیں۔‘
مزید پڑھیں
ایک بیان میں تنظیم کا کہنا تھا کہ ‘کورونا وائرس کی وبا کے آغاز سے دنیا بھر میں موجود کمزور کمیونٹیز واضح پیغام بھیج رہی ہیں اور وہ یہ ہے کہ کورونا وائرس سے پہلے بھوک ہمیں مار دے گی۔ آج بھوک کی وجہ سے ہونے والی اموات وائرس کے نتیجے میں ہونے والے ہلاکتوں سے زیادہ ہے۔‘
اوکس فیم کے اندازے کے مطابق ’کورونا وائرس کی وجہ سے ایک منٹ میں سات لوگ ہلاک ہو رہے ہیں جبکہ شدید بھوک سے ہر منٹ میں 11 اموات ہو رہی ہیں۔‘
اوکس فیم کا کہنا ہے کہ ’یمن، وسطی افریقہ، افغانستان، جنوبی سوڈان، وینزویلا اور شام وہ ممالک ہیں جہاں معاشی مسائل اور کورونا وائرس کی وجہ سے پہلے سے موجود خوراک کا بحران بڑھ گیا ہے۔‘
’بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور کھانے کی پیداوار کے شدید متاثر ہونے سے دنیا بھر میں کھانے کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ ایک دہائی میں ہونے والا سب سے زیادہ اضافہ ہے۔‘

بیان کے مطابق دنیا میں ہر منٹ 11 لوگ بھوک سے ہلاک ہو رہے ہیں۔ فائل فوٹو: ان سپلیش
بیان میں باتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں کل ملا کر پانچ لاکھ سے زائد افراد ‘قحط جیسے حالات’ میں رہ رہے ہیں جبکہ 15.5 کروڑ افراد کو ‘شدید بھوک’ کا سامنا ہے۔ یہ تعداد فرانس اور جرمنی کی کل آبادی کے برابر ہے۔
ان 15.5 کروڑ افراد میں تین میں سے دو لوگ ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں جنگ یا کشیدگی چل رہی ہو۔
اس میں مزید لکھا گیا ہے کہ ‘مسلسل تین سالوں سے دنیا بھر میں تنازعات بھوج کی سے سے بڑی وجہ ہیں۔’
وبا کے دنوں میں بھی یہی صورتحال ہے۔