دودھ کے سرکاری نرخ طے کرنے سے متعلق پلان طلب

Milk Price Hike

فائل فوٹو

سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں دودھ کے سرکاری نرخ طے کرنے سے متعلق پلان اور ملک ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر کو بھی طلب کرلیا۔

جمعہ 7مئی کو عدالت میں دودھ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

دوران سماعت سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 94 روپے فی لیٹر قیمت مقرر ہے مگر 120 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔

عدالت نے سندھ فوڈ اتھارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ لوگ کہاں اور کتنے روڈز پر کھڑے ہوتے ہیں چیکنگ کے لیے یہ بتائیں، جس پر سندھ فوڈ اتھارٹی کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ کل حیدرآباد سے 500 لیٹر کیمیکل کا ڈرم برآمد کیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے آپ کو سب چیزیں صحیح مل رہی ہے، پنجاب میں فوڈ اتھارٹی بہت کام کرتی ہے لیکن یہاں لوگوں کو مری ہوئی مرغیاں کھلائی جاتی ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر نے عدالت کو بتایا کہ دودھ کی قیمت 2018 میں 94 روپے مقرر ہوئی تھی، ملک ریٹیلرز کے ساتھ مل کر میٹنگ کی مگر یہ نہیں مانتے جبکہ ملک ریٹیلرز دودھ کی قیمت 140 سے 150 روپے فی لیٹر چاہتے ہیں۔

عدالت نے سرکاری نرخ طے کرنے سے متعلق پلان طلب کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کیسے دودھ کی نئی سرکاری قیمت طے ہو سکتی ہے اور سرکاری قیمت پر دودھ کی فروخت کیسے یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ سرکاری قیمت اور عمل درآمد سے متعلق طریقہ کار پیش کیا جائے، کیا کمشنر آفس اتنا بے بس ہے کہ عمل درآمد نہیں کرایا جا سکتا۔

عدالت نے ملک ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر کو بھی طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 10 جون تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ خبریں