دو بھائی ‘امیر اور رئیس’ اربوں ڈالر کے بٹ کوائن لے کر غائب

جنوبی افریقہ میں کرپٹو کرنسی کی سرمایہ کاری کی ایک کمپنی سے دو بھائی 3.6 ارب ڈالرز کی مالیت کے بٹ کوائنز کے ساتھ غائب ہو گئے ہیں۔
بلوم برگ کے مطابق کیپ ٹاؤن کی ایک لا کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے دونوں بھائیوں کو دھونڈنے کے لیے جنوبی افریقہ کی ہاکس نامی پولیس فورس سے رابطہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
کمپنی کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس نے دنیا بھر کی کرپٹو کرنسی کو ڈیل کرنے والی کمپنیوں کو بھی آگاہ کر دیا ہے تاکہ ڈیجیٹل کوائنز کو تبدیل کرنے کے کسی بھی عمل پر نظر رکھی جا سکے۔
گذشتہ سال بٹ کوائن کی قدر میں اضافہ ہوا تھا اور اب 69 ہزار کوائنز، جن کی اپریل میں مالیت چار ارب ڈالر تھی، کی چوری کرپٹوکرنسی سب سے بڑی چوری ہے۔
اپریل میں بٹ کوائنز کی قدر بہت بڑھ گئی تھی۔ 
ایفری کرپٹ نامی کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفسر امیر کاجی، جو دونوں بھائیوں میں سے بڑے ہیں، نے اپنے گاہکوں کو بتایا کہ کمپنی کو ہیکنگ کا سامنا ہے۔ انہوں نے گاہکوں کو ہیکنگ کے معاملے پر حکام اور وکلا سے رجوع کرنے سے یہ کہہ کر روکا تھا کہ اس سے لاپتہ فنڈز کی بازیابی کا عمل سست روی کا شکار ہو جائے گا۔

امیر کاجی نے سرمایہ کاروں کو حکام سے رجوع کرنے سے منع کیا تھا (فوٹو: ان سپلیش)
تاہم کچھ سرمایہ کاروں نے خدشات کی بنا پر ہانکوم اٹرنیز نامی لا فرم سے رابطہ کیا اور ایفری کرپٹ کے خلاف کارروائی شروع کی۔
ہانکوم اٹرنیز نے ای میل کے ذریعے کیے جانے والے سوالات کے جواب میں کہا کہ ‘ہمیں تشویش ہوئی جب سرمایہ کاروں کو قانونی کارروائی سے روکا گیا۔ ایفری کرپٹ کے ملازمین کی بیک اینڈ پلیٹ فارم تک رسائی مبینہ ہیک کے سات دن پہلے بند ہوگئی تھی۔’
امیر کاجی کے بھائی کا نام رئیس کاجی بتایا گیا ہے۔ دونوں نے 2019 میں ایفری کرپٹ کا آغاز کیا تھا اور سرمایہ کاروں کو زیادہ منافع دے کر اپنا گاہک بنایا تھا۔