’دہشت کی علامت‘ سمجھے جانے والے ’لادی گینگ‘ کا سربراہ ہلاک

انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب انعام غنی کا کہنا ہے کہ ’ڈیرہ غازی خان میں سی ٹی ڈی اور پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران لادی گینگ کا سربراہ خدا بخش اپنے ساتھیوں سمیت مارا گیا ہے۔
آئی جی پنجاب انعام غنی نے سنیچر کو اپنی ایک ٹویٹ میں بتایا کہ ’لادی گینگ نے 25 جون 2021 کو ایک شخص کو بے دردی سے قتل کیا تھا اور اس کی ویڈیو وائرل کی تھی۔‘ 

لادی گینگ ہے کیا؟

ڈیرہ غازی خان جنوبی پنجاب کا سب سے پسماندہ ضلع تصور کیا جاتا ہے جس کا 52 فیصد حصہ قبائلی نظام پر مشتمل ہے جبکہ 48 فیصد حصے پر حکومتی عمل داری ہے۔
قبائلی علاقے میں کوہ سلمان کا پہاڑی سلسلہ ہے اور اس میں کئی طرح کے قبائل آباد ہیں۔ یہاں پر پرانے فاٹا طرز پر ایک پولیٹیکل اسسٹنٹ تعینات ہے جو یہاں کی ایگزیکٹو اتھارٹی ہے جبکہ یہاں عام پولیس کی بجائے بارڈر ملٹری فورس اور بلوچ لیوی کے اہکار تعینات ہیں۔
علاقے کے پولیٹیکل اسسٹنٹ حمزہ سالک نے اردو نیوز کے نامہ نگار رائے شاہنواز کو بتایا تھا کہ ’لادی گینگ گذشتہ 10 سالوں سے متحرک ہے ان کے موجودہ سربراہ کا نام خدا بخش ہے اور یہ جدید ہتھیاروں سے لیس ہے۔ حتیٰ کہ اس گینگ کے پاس راکٹ لانچر بھی ہیں۔ پہلے اس گروہ کا کام چھوٹی موٹی ڈکیتیاں تھا لیکن اب یہ خاصے فعال ہو چکے ہیں۔ ناہموار علاقے کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی کرنا قدرے مشکل ہوتا ہے۔‘ 

مقامی صحافی جاوید فاروقی نے بتایا کہ ’گروہ میں شامل افراد سمجھتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح پولیس نے ماضی میں ان کے ساتھ ناانصافیاں کی ہیں‘ (فوٹو: اے ایف پی)
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’پہلی دفعہ ان کے خلاف ایک موثر آپریشن کرنے جا رہے ہیں جس میں ہمیں پولیس اور رینجرز کی مدد بھی حاصل ہے۔ یہ علاقہ ایک پرامن علاقہ ہے جس میں کئی قبائل آباد ہیں اور کبھی بھی لا اینڈ آرڈر کی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ صرف لادی قبیلے کے کچھ افراد اب مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔‘
لادی بنیادی طور پر ایک ذات ہے اور یہ کھوسہ قبیلے کا ذیلی قبیلہ ہے۔ مقامی صحافی جاوید فاروقی نے بتایا کہ ’لادی گینگ کا سردار خدا بخش نامی ایک نوجوان ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’اس گروہ میں شامل افراد سمجھتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح پولیس نے ماضی میں ان کے ساتھ ناانصافیاں کی ہیں۔ حالیہ واقعے میں بھی تشدد اور ہلاکت کا شکار ہونے والے افراد پر انہوں نے یہ الزام لگایا کہ یہ پولیس کے مخبر تھے۔‘

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اس گینگ کے خلاف فیصلہ کن آپریشن کے احکامات ملتان کے سرکٹ ہاؤس میں ابتدائی رپورٹس دیکھنے کے بعد دیے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
جاوید فاروقی کے بقول ’پولیس اس علاقے میں نہیں آتی، اس کے لیے محکمہ داخلہ سے اجازت لینا پڑتی ہے۔ یہاں صرف بارڈر ملٹری فروس اور بلوچ لیوی ہی موجود ہوتی ہے جنہیں سوار کہا جاتا ہے۔ کیونکہ یہاں سڑکیں نہیں ہیں اس لیے قانون نافذ کرنے والے اہلکار گھوڑے یا موٹرسائیکل پر گشت کرتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’یہ گروپ ڈیرہ غازی خان کے آباد علاقوں میں ایک دو بڑی فیکٹریوں سے بھتہ اور کسانوں سے اناج لیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ چھوٹی موٹی ڈکیتیوں میں بھی ملوث ہے۔ یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ ان کے خلاف اس بڑے پیمانے پر آپریشن کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی اندیشہ ہے کہ پہاڑی علاقے کا فائدہ اٹھا کر بلوچستان بھی داخل ہو سکتے ہیں۔‘ 
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اس گینگ کے خلاف فیصلہ کن آپریشن کے احکامات ملتان کے سرکٹ ہاؤس میں ابتدائی رپورٹس دیکھنے کے بعد دیے تھے۔