رات کی تاریکی میں بگرام سے نکلنے کا دفاع، ’امریکی انخلا محفوظ ہونا چاہیے‘

امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بگرام ایئربیس سے نکلنے کے لیے افغان حکام کو صحیح وقت کے بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا۔
بگرام ایئربیس کے نئے کمانڈر سمیت افغان فوجی حکام نے شکایت کی تھی کہ امریکی فوج پیشگی اطلاع دیے بغیر رات کی تاریکی میں ایئربیس سے نکلی۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ اعلیٰ افغان سیاسی اور عسکری حکام کو بگرام ایئربیس سے نکلنے سے متعلق دو دن قبل آگاہ کیا تھا اور ان کو وسیع پیمانے پر پھیلے بگرام ایئربیس کے استعمال کے بارے میں ہدایات دی گئی تھی۔
مزید پڑھیں
بگرام ایئربیس گذشتہ دو دہائیوں سے القاعدہ اور طالبان کے خلاف امریکی اور اتحادی افواج کا مرکز رہا ہے۔
جان کربی نے مزید کہا کہ آپریشنل سکیورٹی وجوہات کی بنا پر روانگی کے عین وقت کو ظاہر نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے محسوس کیا کہ (روانگی سے متعلق) معلومات کو جتنا ممکن ہو، خفیہ رکھا جائے۔‘
طالبان سے امریکی افواج کو درپیش خطرے سے متعلق اشارہ کرتے ہوئے جان کربی نے کہا کہ امریکی انخلا کو ’محفوظ اور منظم‘ ہونا چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اس پر بات نہیں کر سکتا کہ افغانوں نے اس فیصلے کا کیا مطلب نکالا۔‘

بگرام ایئربیس کا انتظام افغان سکیورٹی فورسز نے سنبھال لیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے کہا کہ یہ ساتواں اور آخری اڈہ تھا جسے ہم نے افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا۔
امریکی صدر جوبائیڈن نے اپریل میں امریکی فوج کے انخلا کا حکم دیا تھا جس کے بعد افغانستان سے ہزاروں فوجیوں اور سویلین کنٹریکٹرز کا انخلا تیزی سے ہوا۔
امریکی صدر نے کہا تھا کہ انخلا کا عمل ستمبر میں مکمل ہوگا۔
منگل کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ 90 فیصد سے زیادہ انخلا مکمل ہو گیا ہے۔