راجر فیڈرر کی ریٹائرمنٹ پر رافیل نڈال بھی رو پڑے

راجر فیڈرر نے کہا کہ ’وہ اپنے مداحوں کو شکریہ ادا کرنے کے لیے دنیا بھر میں جانا چاہتے ہیں‘ (فوٹو: اے ایف پی)

راجر فیڈرر گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ٹینس کورٹ میں چھائے رہے تاہم کیریئر کے اختتام پر جمعے کو سوئس کھلاڑی نے کہا کہ ’وہ آخری میچ کے بعد خیالات کے اظہار کے لیے مائیک ملنے پر گھبرا گئے تھے۔‘
مزید پڑھیں
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اپنے شاندار کیریئر کے دوران 41  سالہ کھلاڑی نے لاتعداد آن کورٹ انٹرویوز دیے تھے مگر ان کو خدشہ تھا کہ وہ آخری ڈبل فائنلز کے بعد بات کرتے ہوئے جذباتی ہو جائیں گے۔
راجر فیڈرر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’یہ وہ مرحلہ ہے جس کے بارے میں میں بہت پریشان تھا، مائیکروفون کو لے کر کیا کہوں گا۔ چاہتا تھا میں ایسی شام گزاروں جہاں مجھے مائیک نہ اٹھانا پڑے۔‘
ایونٹ کے دوران کئی مداح اور راجر فیڈرر خود بھی جذباتی ہوئے اور آنسو بہہ نکلے۔
گرینڈ سلیم میں 20 مرتبہ چیمپیئن رہنے والے نے اپنے مداحوں، حریفوں اور اپنے خاندان کے لیے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ 
اختتامی تقریب کے دوران ایک موقع پر ان کے ڈبل کے فائنل میں ساتھی کھلاڑی رافیل نڈال بھی جذباتی ہو کر رو پڑے۔
نڈال نے کہا کہ ’ان کا ایک حصہ راجر فیڈرر کے ساتھ جا رہا ہے۔‘

راجر فیڈرر نے اپنے کیریئر میں 20 گرینڈ سلَیم ٹورنامنٹس جیتے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سپین کے کھلاڑی نے کہا کہ ’میرے لیے یہ بہت بڑا اعزاز رہا کہ اس کھیل میں تاریخی موقع پر ان کے ساتھ ہوں۔ اور ہم نے گزرے برسوں میں بہت کچھ شیئر کیا۔‘
فیڈرر نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ شکریے کے مزید الفاظ بھی ہیں جو انہیں دنیا کے دیگر حصوں میں مداحوں کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
ریٹائرمنٹ پر ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ہر چیز کا اختتام نہیں ہے، آپ جانتے ہیں کہ زندگی چلتی رہتی ہے۔ میں صحت مند ہوں، خوش ہوں، سب کچھ بہت اچھا ہے۔ اور یہ وقت کا صرف ایک لمحہ ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میرے پاس کہاں، کیسے اور کب کے لیے کوئی منصوبہ نہیں مگر اتنا جانتا ہوں کہ میں ان جگہوں پر جانا اور کھیلنا پسند کروں گا جہاں میں نے پہلے کبھی نہیں کھیلا تھا یا ان تمام لوگوں کے پاس جا کر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے برسوں میرا ساتھ دیا۔‘

راجر فیڈرر نے اپنے کیریئر کے دوران 20 گرینڈ سلیم ٹورنامنٹس میں کامیابی حاصل کی (فوٹو: اے ایف پی)
آخری ٹورنامنٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ لیور کپ میں مشکل یہ تھی کہ ٹکٹ پہلے ہی فروخت ہو چکے تھے۔ جن لوگوں نے شاید یہاں آنا بھی چاہا ہو گا وہ نہیں آ سکے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم سب مل کر آگے بھی اس کے لیے کوئی پارٹی کریں۔‘