رمز فیلڈ کو کس طرح یاد رکھنا چاہیے؟

سال 2006ء میں عراق سے نیویارکر میگزین کیلئے اپنے پانچویں رپورٹنگ دورے سے امریکا واپس آرہا تھا تو لنچ پر صدر جارج بش کے 2 اعلیٰ مشیروں نے مجھے جنگ پر تبادلہ خیال کرنے کیلئے وائٹ ہاؤس مدعو کیا۔

اس سے پہلے یہ کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس وقت تک صدر بش کے قریب موجود کوئی بھی شخص مجھ سےعراق سے متعلق بات نہیں کرتا تھا۔ شاید اس لئے کیوں کہ میری رپورٹنگ دوستانہ نہیں رہی تھی اور انتظامیہ صرف وہ سنتی تھی جو ان کو سننا تھا۔ مگر سال 2006ء تک صدر بش کی وائٹ ہاؤس انتظامیہ کو اندازہ ہوچکا تھا کہ عراق خانہ جنگی کے زیادہ قریب پہنچ چکا تھا اور اس کی آزادی بہت دور چلی گئی تھی۔

اس ملاقات میں ان 2 مشیروں کو یہ جاننا تھا کہ غلط کیا ہوا تھا۔ ان کو اس بات میں خاصی دلچسپی تھی کہ وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ کے بارے میں میری کیا رائے تھی اور ان کا کیا کردار تھا۔ میں نے جیسے ہی بولنا شروع کیا تو ان کے چہرے اتر گئے۔ میں نے سوچا کہ وائٹ ہاؤس کیا عراق کی حقیقت سے اتنا دور تھا کہ ان کے اعلیٰ مشیران کو یہ بات پہلے کبھی معلوم ہی نہیں تھی۔

رمز فیلڈ امریکی تاریخ کے سب سے بدترین وزیر دفاع رہے۔ وہ رابرٹ میک نمرا سے بھی برے تھے۔ میک نمرا کی غلطی یہ تھی کہ وہ سرد جنگ کے ایک ایسے دور سے تھے جب کمیونزم کے خلاف بھارت اور چین کی جدوجہد کو اہم سمجھا جاتا تھا۔ ان کو پھر وقت کے ساتھ ہی اندازہ ہوا کہ ویتنام کی جنگ جیتی نہیں جاسکتی تھی مگر انہوں نے یہ بات امریکی عوام کو نہیں بتائی اور یہ ان کو ایک ناقابل معافی بزدل بناتی ہے۔

نائن الیون کے بعد ہونے والے ہر سانحے کی رمز فیلڈ حمایت کرتے رہے۔ جب بھی امریکی حکومت کوئی غلط فیصلہ کرنے جارہی ہوتی تھی تو رمز فیلڈ وہاں موجود ہوتے تھے اور اپنے ملک کو مزید ایک اور گڑھے میں دھکیل رہے ہوتے تھے۔

نائن الیون کی صبح رمز فیلڈ اپنے دفتر میں تھے کہ جب طیارہ پینٹاگون کی عمارت سے ٹکرایا۔ اس کے چند ہی منٹ میں انہوں نے دلیری اور لیڈر شپ دکھائی مگر اس کے چند گھنٹوں بعد وہ تباہ کن آئیڈیاز سوچ رہے تھے۔ ایک سیکریٹری نے کچھ نوٹس لئے جس میں یہ الفاظ لکھے تھے۔ ’’بہترین معلومات جلد فراہم کی جائیں کہ کیا اسامہ بن لادن کو صدام حسین کے ساتھ بیک وقت ٹارگٹ کرنا چاہئے‘‘۔

ان چند الفاظ سے رمز فیلڈ کا فیصلہ لینے کا طریقہ، ان کی جارحیت اور ان کی عسکری قوت میں یقین اور معمول کی کارروائی کو رد کرنے کی عادت، یہاں تک کہ انٹیلی جنس رپورٹس بھی ان کیلئے معانی نہیں رکھتی تھیں۔

ستمبر 11، امریکی عزم کا امتحان تھا اور اس کو دکھانے کا موقع تھا۔ رمز فیلڈ کی غلطیاں اس کے بعد رک نہ سکیں۔ انہوں نے بحث کی کہ نائن الیون کا حملہ یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکا کو میزائل دفاعی نظام کی ضرورت ہے جس کا وہ کافی عرصے سے کہہ رہے تھے۔ انہوں نے سوچا کہ امریکی جنگ افغانستان میں ہونے کا مطلب طالبان کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے سوچا کہ نئی افغان حکومت کو امریکا کی سیکیورٹی اور حمایت کی بعد میں ضرورت نہیں ہوگی۔ انہوں نے سوچا کہ امریکا کو اپنے اتحادیوں کو جھٹک دینا چاہئے۔ اقوام متحدہ کو نظر انداز کرنا چاہئے اور یہ سب تنہا کرنا چاہئے۔

انہوں نے اصرار کیا کہ صدام کے بغیر القاعدہ نہیں چل سکے گی اور ان کا یہ خیال تھا کہ عراق کے تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں انٹیلی جنس غلط تھی۔ سوائے اس کے جو رپورٹ انہوں نے خود طلب کی ہے۔ ان کو تشدد کے ذریعے ملنے والی اانٹیلی جنس پر سب سے زیادہ اعتماد تھا۔ ان کا یہ خیال تھا کہ محکمہ خارجہ اور سی آئی اے صرف بزدل، جاہل بیوروکریٹس سے بھرا ہوا ہے۔

ان کی یہ سوچ تھی کہ امریکا اپنی جنگیں کمپیوٹرائزڈ اسلحہ اور طاقت دکھانے سے جیتے گا۔

ان کا یہ یقین تھا کہ عراق میں جنگ جیتنے کیلئے لاکھوں فوج کافی ہوگی۔ انہوں نے سوچا کہ صدام کے خاتمے کا مطلب یہ ہوگا کہ مشن پورا ہوگیا۔

جب نومبر 2006ء میں رمز فیلڈ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تو امریکا بہ نسبت اس کے کہ ایک ملک میں امن لے کر آئے، وہ 2 ممالک میں جنگ ہار رہا تھا اور یہ زیادہ تر رمز فیلڈ کے فیصلوں کی وجہ سے ہوا تھا۔

معروف صحافی جارج پیکر کا یہ آرٹیکل ’’دی اٹلانٹک‘‘ میں شائع ہوا، جو ’’دی اٹلانٹک‘‘ کے اسٹاف رائٹر اور 4 کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں سے ایک کتاب عراق کے بارے میں ہے۔

متعلقہ خبریں