رمضان اورکرونا کے باعث پولنگ ریٹ کم رہا، فرخ حبیب

تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب نے کہا ہے کہ رمضان اور کرونا صورتحال کی وجہ سے کراچی کے حلقہ این اے 249 میں ووٹ کا ٹرن آؤٹ کم رہا۔
سماء کے پروگرام آواز میں گفتگو کرتے ہوئے فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو کراچی سے قومی اسمبلی کے 14 نشستیں ملی تھیں اور ن لیگ کا پنجاب کے علاوہ کہیں بھی ووٹ بینک نہیں تاہم کراچی کی ایک سیٹ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
فرخ حبیب نے کہا کہ این اے 249 سے تحریک انصاف کے امیدوار امجد آفریدی نے اچھی مہم چلائی لیکن حتمی نتائج کے بعد دیکھا جائے گا کہ ہارنے کی کیا وجوہات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی سندھ میں کوئی انتظامی عملداری نہں کیوں کہ افسران کے تبادلے اور پولیس یہ سب صوبائی حکومت کے ساتھ منسلک ہے اور اگر ہم ترقیاتی کام بھی کریں بھی تو وہ صوبائی حکومت کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتے۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما ن لیگ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ کراچی ہمارا مضبوط گڑھ نہیں مگر اس کے باوجود ہمارا وہاں سے جیتنا ثابت کردے گا کہ عوام ن لیگ کے بیانیے کے ساتھ ہیں۔
رہنما ن لیگ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی نہ صوبے میں حکومت ہے اور نہ وفاق میں لیکن اس کے باوجود لوگ ہمیں ووٹ دے رہے ہیں اور یہ دونوں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا سے کراچی تک تحریک انصاف ضمنی الیکشن میں ہار رہی ہے جس سے ظاہر ہے کہ تحریک انصاف حکومت کی بدترین کارکردگی سے عوام میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے۔
رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ جس دن یہ تحریک انصف حکومت سے نکل گئی اس کے بعد اس کے امیدوار عوام سے ووٹ نہیں مانگ سکیں گے۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ قوم اگلے الیکشن کے لیے ٹرینڈ سیٹ کررہی ہے، وفاقی حکومت نے کراچی میں احساس کارڈ کا ڈرامہ کیا اور وفاق کے فنڈ سے سڑکیں بھی بنائیں لیکن اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے کراچی کے لیے پانی کی فراہمی کا کے فور منصوبہ شروع کیا، گرین بس منصوبہ دیا اور اس کے علاوہ کراچی میں امن کی بحالی بھی نوازشریف حکومت کا کارنامہ ہے۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیرآباد نوشہرہ، ڈسکہ اور کراچی ضمنی الیکشن کے نتائج اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام نوازشریف کے بیانیے کو درست سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ ہیں۔
رہنما پیپلزپارٹی سینیٹر پلوشہ خان نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پہلی دن سے یہی خواہش تھی کہ تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف اکٹھے جدوجہد کریں۔
مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ ہم نے پی ڈی ایم میں شمولیت کی خواہش کا اظہار نہیں کیا تاہم ہوسکتا ہے ان کو احساس ہوا ہو کہ پی پی کے بغیر اتحاد میں کوئی دم نہیں ہوگا۔
پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ اپوزیشن کو اکٹھے ہونا چاہیے تب ہی کوئی فائدہ ہوگا لیکن ہم نے فی الحال کوئی پیغام نہیں پہنچایا۔
پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کے باتوں میں نرمی سے ایسا لگتا ہے کہ ان کو سمجھ میں آ گیا ہے کہ پیپلزپارٹی کے بغیر اپوزیشن اتحاد کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
مریم نواز کے حالیہ بیان سے متعلق پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ ہم ان کو یہی سمجھا رہے تھے کہ استعفوں کا فائدہ نہیں اور یہ اب ان کو سمجھ آ گیا ہے۔

متعلقہ خبریں