رنگ روڈ اسکینڈل میں ملوث افراد کو نہیں چھوڑینگے،علی محمد

وزیرمملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے رنگ روڈ اسکینڈل کے حوالے سے کہا کہ جن لوگوں نے دھوکا دہی سے زمینیں بیچیں انہیں نہیں چھوڑا جائے گا۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کرپشن اور ظلم کے خلاف بنی ہے گو اس کے تمام افراد فرشتے نہیں ہوسکتے لیکن یہاں اس طرح کی باتیں قابل قبول نہیں۔

علی محمد خان کا کہنا تھا کہ اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی بھی ہونی چاہیے اور ان کے نام ای سی ایل میں بھی ڈالنے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی حکومتی وزیر پر سوالات اٹھتے ہیں تو وزیراعظم اس سے باز پرس کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زلفی بخاری نے تحقیقات کا خیرمقدم کیا ہے اور اگر کسی نے کچھ کیا ہے تو تحقیقات میں سامنے آجائے گا۔

علی محمد خان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاسی رہنما کو اپنے ارد گرد کرپٹ لوگ نہیں رکھنے چاہئیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو معاملے پر جوڈیشل کمیشن بھی بن سکتا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہماری حکومت میں جس پر سوال اٹھا ہے ان سے استعفیٰ لے لیا گیا جبکہ زلفی بخاری کا نام بھی رپورٹ میں نہیں پھر بھی وہ مستعفی ہوگئے۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ ن خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ رنگ روڈ اسکینڈل میں عمران خان کی نالائقی اور نااہلی سامنے آگئی ہے اور اسکینڈل میں جن لوگوں کے نام آرہے ہیں انہیں کابینہ میں عمران خان نے ہی شامل کیا ہے۔

خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ چینی،آٹا،ایل این جی اسکینڈل میں ملوث کسی وزیر کے خلاف آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسکینڈل کے مرکزی ذمہ داروں کے تعین کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ منصوبے کی لاگت اور فاصلے میں اضافہ ہوا ہے اور معاملے سے وہ حکومتی وزرا ء اور مشیر مستفید ہوئے جن کی سرپرستی عمران خان کررہے ہیں۔

رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ یہ کریڈٹ لے رہے ہیں کہ ہم نے تحقیقات کا آغاز کردیا لیکن لوگوں کے پیسے تو لوٹے جا چکے اب اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔

خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ معاملے پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں میں بحث ہوگی تمام ذمہ داروں کو کمیٹی میں بلاکر سوال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت ہوئی تو وزیراعظم کو بھی کمیٹی میں طلب کیا جاسکتاہے۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما پیپلزپارٹی شرجیل میمن کا کہنا تھا ملک میں ایک قانون ہونا چاہیے جو سب کے لیے برابر ہو مگر بدقسمتی سے ملک میں اپوزیشن اور حکومت کے لیے الگ الگ قوانین ہے۔

زلفی بخاری کے استعفیٰ پر تبصرہ کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ اگر یہی طریقہ کار ہے تو انکوائری تو خسرو بختیار اور عثمان بزدار کے خلاف بھی چل رہی ہے تو پھر ان سب کو مستعفی ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ معاملے پر ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے کر اس کے ذریعے تحقیقات ہونی چاہیے اور تمام ملوث افراد کو طلب کیا جانا چاہیے۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ حکومت ہر اسیکنڈل پر عدالتی اسٹے آرڈر لے لیتی ہے مجھے خدشہ ہے کہ حکومت کہیں بی آر ٹی کی طرح اس پر بھی  اسٹے نہ حاصل کرلے۔

متعلقہ خبریں