روزے جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں

فائل فوٹو

اگرچہ مسلمان کسی دنیاوی فائدے کے لیے روزے نہیں رکھتے لیکن جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ رمضان کے روزوں کے سینکڑوں جسمانی اور ذہنی فوائد ہیں اور ڈاکٹروں کے مشورے سے روزے رکھنے سے شوگر، پریشر، کولیسٹرول کنٹرول کرنے، وزن گھٹانے، کینسر کے بچاؤ اور دماغی امراض پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے جبکہ ڈپریشن، گھبراہٹ اور سگریٹ نوشی سمیت دیگر کئی منشیات سے نجات حاصل کرنے میں بھی روزہ مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار مقامی اور بین الاقوامی ماہرین صحت نے اتوار کے روز اختتام پذیر ہونے والی دو روزہ ساتویں بین الاقوامی ذیابطیس اور رمضان کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کا انعقاد بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائینولوجی نے انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن، رمضان اینڈ حج اسٹڈی گروپ اور اور ڈائبیٹیز اینڈ رمضان انٹرنیشنل الائنس کے تعاون سے کیا تھا۔

بین الاقوامی ماہرین خصوصاً ڈاکٹر عادل السید اور ڈاکٹر عیبا العزیری کا کہنا تھا کہ روزے رکھنے کے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں جسمانی اور ذہنی فوائد ہیں تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے پیش نظر یہ فوائد نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالی کی خوشنودی مقصود ہوتی ہے۔

دونوں ماہرین کا کہنا تھا کہ روزے رکھنے سے نہ صرف شوگر کے مرض بلکہ بلڈ پریشر، دل کے امراض، گردوں کے افعال اور ذہنی مسائل بشمول ڈپریشن اور گھبراہٹ پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کروڑوں مسلمان اپنی مختلف بیماریوں کے باوجود روزے رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی صحت بہتر ہو سکتی ہے لیکن ان تمام مریضوں کو کو اپنے معالجین کے مشورے پر عمل کرنا چاہیے۔

معروف اسلامی اسکالر مفتی ارشاد احمد اعجاز کا کہنا تھا کہ اللہ تعالی نے مسلمانوں کو رمضان کے روزے رکھنے کے حکم کے ساتھ ساتھ مریضوں کو کئی آسانیاں بھی مہیا کی ہیں اور ایسے مریض جنہیں ان کے معالج روزہ رکھنے سے منع کریں انہیں چاہیے کہ اپنے ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کریں اور جب ان کی صحت بہتر ہو جائے تو رمضان کے روزے پورے کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ طبی معاملات میں ماہرین صحت کی رائے کو اولیت حاصل ہے اور اگر ڈاکٹر یہ سمجھتے ہیں کہ کسی مریض کی حالت ایسی نہیں کہ وہ روزے رکھ سکے تو انہیں اپنے معالج کی ہدایت پر عمل کرنا چاہیے۔

ذیابطیس اور رمضان کے حوالے سے ساتویں کانفرنس کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مفتی ارشاد کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس میں پوری دنیا سے ماہرین شرکت کر رہے ہیں اور وہ دنیا کے کے کروڑوں مسلمانوں کو روزے رکھنے کے حوالے سے مفید مشورے دے رہے ہیں۔

کانفرنس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین اور اور رمضان اینڈ حج اسٹڈی گروپ پاکستان کے سربراہ پروفیسر یعقوب احمدانی کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 15 سالوں سے رمضان اور حج کی عبادات کو محفوظ طریقے سے ادا کرنے کے حوالے سے ریسرچ کر رہے ہیں اس سلسلے میں یہ ساتویں کانفرنس ہے جس میں پوری دنیا سے ماہرین کو مدعو کیا گیا ہے تاکہ وہ وہ رمضان کے مہینے میں مسلمانوں کو محفوظ طریقے سے روزے رکھنے کے حوالے سے آگاہی اور معلومات فراہم کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس کو رمضان کے آغاز سے چند ہفتے قبل منعقد کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ذیابطیس میں مبتلا مریض کو یہ بتایا جائے کہ وہ اپنے معمولات کار اور دواؤں کو اپنے معالجین کے مشورے سے کیسے ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رمضان کے حوالے سے ڈاکٹروں کی تربیت بھی بہت ضروری ہے تاکہ وہ اپنے مریضوں کو روزہ رکھنے کے حوالے سے صحیح مشورہ دے سکیں، ڈاکٹروں کو چاہیے کہ وہ اپنے مریضوں کو بتائیں کہ رمضان کے مہینے میں پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں، ورزش کو ترک نہ کریں، مرغن غذاؤں سے پرہیز کریں، چائے کافی اور کولڈ ڈرنکس کے استعمال سے اجتناب کریں جبکہ کسی بھی بھی مسئلے کی صورت میں ٹیکنالوجی خاص طور پر ٹیلی میڈیسن کا استعمال کر کے مفید مشورے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائینولوجی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن اور دیگر عالمی اداروں کے اشتراک سے زیابطیس کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق کر رہا ہے، اللہ کا شکر ہے کہ پاکستانی اور عالمی ماہرین کی کئی سالوں کی محنت کے بعد اب ذیابطیس اور دیگر امراض میں مبتلا مریض رمضان کے فیوض و برکات سے مستفید ہو رہے ہیں اور لوگوں کو اس بات کا علم ہو چکا ہے کہ وہ ان حالات میں روزے رکھ سکتے ہیں جبکہ وہ کیا عوامل ہیں جن کی بنا پر وہ بغیر کفارہ ادا کیے روزہ توڑ سکتے ہیں۔

کانفرنس کے اختتامی روز ترک ماہر ڈاکٹر محمت عاکف، پروفیسر محمد حسنین، سعودی ماہر ذیابطیس ڈاکٹر خالد طیب، مصری ماہر ڈاکٹر مصباح کامل، پروفیسر شبین ناز مسعود، مصری ماہر ڈاکٹر نینسی ال بربری، قطر سے ڈاکٹر ریاض احمد ملک، امریکا سے ڈاکٹر عظمی خان، برطانیہ سے سے ڈاکٹر وسیم حنیف اور سلمہ مہر اور ڈاکٹر سیف الحق نے بھی خطاب کیا۔

متعلقہ خبریں