روس کا ترکی کے خلاف ‘سیاحتی کارڈ’ کا استعمال، سفری پابندی میں توسیع

ترکی کے مفاہمتی رویے کے باوجود روس نے ترکی جانے والی پروازوں پر پابندی میں مزید توسیع کر دی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ترکی میں کورونا کے کیسز میں اضافے کے بعد روس نے اپریل کے وسط سے سفر پر پابندی عائد کر دی تھی جو یکم جون تک برقرار رہنا تھی، تاہم روس نے پابندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر دی ہے۔
روس کا یہ اقدام ترکی کی سیاحت کی صنعت کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ روس سے تقریباً پانچ لاکھ سیاح ترکی کا رخ کرتے ہیں، جو پابندی کے بعد متبادل سیاحتی مقامات کا چناؤ کرنے پر مجبور ہوں گے۔ سنہ 2020 میں تقریباً 20 لاکھ روسی سیاح ترکی گئے تھے۔ 
خیال رہے کہ سیاحتی شعبے سے ہونے والی آمدنی کے ذریعے ترکی اپنا بیرونی قرضہ اتارتا ہے۔
مزید پڑھیں
روس کے ترکی کے سفر پرعائد پابندی میں توسیع کے اقدام کو سیاسی تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔  ترکی کی روس کے خلاف یوکرین کی حمایت اور یوکرین کے وزیراعظم کے دورہ استنبول پر روس میں ترکی کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے۔
اس حوالے سے تجزیہ کار ایمری ایرسن کا کہنا ہے کہ ’روس میں کورونا کے کیسز کا تناسب ترکی سے زیادہ ہے، روس کی سفر پر پابندی میں توسیع کے پیچھے سیاسی مقاصد کا نہ ہونا ناقابل یقین ہے۔‘
یہ پہلا موقع نہیں جب روس نے سیاحت کو ترکی کے خلاف فائدہ اٹھانے کے طور پر استعمال کیا ہو۔
نومبر 2015 میں شام کی سرحد پر ترکی کی جانب سے روسی جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد روس نے معاشی پابندیوں کا اعلان کیا تھا جن میں روس اور ترکی کے درمیان چارٹر پروازوں کی بندش بھی شامل تھی۔

ترکی کی یوکرین کی حمایت کرنے پر روس میں غصہ پایا جاتا ہے۔ فوٹو اے ایف پی 
روس کے اس اقدام سے سالانہ کی بنیاد پر ترکی جانے والے 30 لاکھ روسی سیاحوں کو مجبوراً متبادل ممالک کا رخ کرنا پڑا تھا۔
روس میں سیاحتی کمپنیوں کو بھی منع کیا گیا تھا کہ وہ ترکی کے لیے سیاحتی پیکج فروخت نہ کریں۔
چند روسی سیاستدانوں نے بھی ترکی کے روس کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری کی نشاندہی کی ہے اور سیاحتی شعبے کو ترکی کے خلاف استعمال کرنے کا کہا ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف نے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ یوکرین کو کریمیا کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنے پر اکسانے کا مطلب روس کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔
ترکی نے سنہ 2019 میں یوکرین کو ڈرون بھی فروخت کیے تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان ڈرون کی اس ڈیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی روس کے خلاف اتحاد کا حصہ بن رہا ہے۔