روس کے جنوبی ساحل پر اڑھائی ہزار کیسپیئن سیلز کی پُراسرار موت

ماہی پروری ایجنسی کا کہنا ہے کہ کیسپیئن سیلز کی مجموعی تعداد دو لاکھ 70 ہزار سے تین لاکھ کے درمیان ہے (فائل فوٹو: طاس)

روس کی وزارتِ قدرتی وسائل و ماحولیات نے کہا ہے ملک کے جنوبی ساحل پر اڑھائی ہزار مردہ سیلز پائی گئی ہیں۔
اخبار ’دی گارڈیئن‘ نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے سنیچر کو مردہ سیلز کی تعداد سات سو بتائی تھی۔
مزید پڑھیں
بعدازاں وزارتِ قدرتی وسائل نے ان کی تعداد میں اضافے کی اطلاع دی۔
روس کے صوبے داغستان کے حکام نے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ بڑے پیمانے پر ان ہلاکتوں کا سبب کیا ہے لیکن یہ ممکنہ طور پر قدرتی وجوہات کی وجہ سے ہوئی ہیں۔
کیسپین سمندر (جس کا ساحل آذربائیجان، ایران، قزاقسان، روس اور ترکمانستان کے ساتھ لگتا ہے) میں سیلز کی تعداد کے بارے دستیاب معلومات میں کافی فرق ہے۔
ماہی پروری ایجنسی کا کہنا ہے کہ کیسپیئن سیلز کی مجموعی تعداد دو لاکھ 70 ہزار سے تین لاکھ کے درمیان ہے جبکہ کیسپین انوائرمینٹل پروٹیکشن سینٹر نے یہ تعداد 70,000 بتائی ہے۔
انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) نے کیپسین سیلز کا شمار معدومی کی شکار سمندری حیات کی ریڈ لسٹ میں کیا ہے۔
انوائرمینٹل پروٹیکشن سینٹر کے سربراہ زاور گوپیزوف نے کہا ہے یوں لگتا ہے یہ سیلز لگ بھگ دو ہفتے قبل موت کا شکار ہوئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک کوئی ایسے شواہد نہیں ملے کہ آیا انہیں مارا گیا ہے یا پھر یہ مچھلیوں کے جالوں میں پھنسی ہیں۔
وفاقی فشریز ایجنسی کے ماہرین نے ساحلی علاقے کی جانچ بھی کی ہے اور وہاں سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق پانی میں مہلک آلودگی کے آثار نہیں ملے۔
تاہم اس مقام سے حاصل کیے گئے نمونوں کے لیبارٹری ٹیسٹ آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھ کیسپیئن سیلز کے یوں بڑی تعداد میں مردہ پائے جانے کے واقعات پیش آ چکے ہیں جن کو قدرتی اسباب کے سے جوڑا جاتا رہا ہے۔
قزاقستان جس کا کیسپیئن سمندر کے ساتھ سب سے طویل ساحل ہے ، وہاں رواں برس کے دوران اس نوع کے کم از کم تین واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔