روپے کی قدر میں مزید بہتری، ’ڈالر ہولڈ کرنے والوں کو نقصان کا خوف‘

امریکی ڈالر 231 روپے کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

پاکستان میں روپے کی قدر میں مزید بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ رواں ہفتے کے آغاز سے ہی روپے کی گراوٹ کا سلسلہ تھم گیا ہے۔
بدھ کے روز کاروبار کے آغاز پر ایک امریکی ڈالر دو روپے کی کمی کے بعد 231 روپے کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
معاشی ماہرین روپے کی قدر میں کمی کی وجہ اسحاق ڈار کے بطور وزیر خزانہ تقرری کو قرار دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر وزارت خزانہ نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے روپے کی قدر کو بہتر رکھنے کے لیے سخت اقدامات نہ کیے تو آنے والے دنوں میں روپے کی قدر کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ 
فاریکس ڈیلرز کے مطابق کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بدھ کو کاروبار کے آغاز پر روپے کا دباؤ کم ہوتا دکھائی دیا۔
ابتدائی اوقات میں انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں ایک روپے کی کمی رپورٹ ہوئی اور چند ہی لمحات میں روپے کی قدر میں 2 روپے کی بہتری دیکھی گئی جس کے بعد ایک امریکی ڈالر 231 روپے 96 پیسے کی سطح پر آ گیا ہے۔
چیئرمین فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان ملک بوستان نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بات بلکل درست ہے کہ اسحاق ڈار کی واپسی کا اثر مارکیٹ میں دیکھا جا رہا ہے۔
’جن لوگوں نے ڈالر ہولڈ کر رکھے تھے انہیں اب نقصان کا خوف ہے اور گزشتہ تین روز میں ڈالر رکھنے والوں کو نقصان بھی ہوا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر مارکیٹ سے ڈالر کی قلت ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے، ڈالر کی فروخت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ 
ملک بوستان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں وزارت خزانہ سمیت دیگر ذمہ داران کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ روپے کی قدر مستحکم کر سکتے ہیں۔