ریلوے افسر کو بغیر ویزا ایران بھیجنے کا تنازع، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر معطل

ڈپٹی کمشنر نے کمیٹی کو بتایا کہ 2019 سے اب تک 68 افراد راہداری پر ایران جا چکے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان اور ایران کی سرحد پر راہداری گیٹ کے تالے توڑ کر ریلوے کے ایک افسر کو خصوصی اجازت نامے کے بغیر بھیجنے پر چاغی کے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کو معطل کر دیا گیا ہے۔
بدھ کو ذرائع نے اردو نیوز کو بتایا کہ چیف سیکریٹری بلوچستان سے شکایت کی گئی تھی کہ ضلعی انتظامیہ کے افسران اور لیویز اہلکاروں نے راہداری گیٹ کے تالے کو توڑ کر ریلوے کے ایک افسر کو ایران جانے دیا۔ اس دوران منع کرنے پر ایف سی اہلکاروں پر بندوق تانی گئی اور بدسلوکی کی گئی۔
حکام کے مطابق 25 ستمبر کو پاکستان ایران تفتان سرحد کے راہداری گیٹ پر پیش آنے والے تنازع کے دوران سرحد پر تعینات فرنٹیئر کور اور لیویز کے اہلکاروں کے درمیان جھگڑا بھی ہوا۔ جس کے بعد سرحد پر تعینات ایف سی اہلکاروں کی رپورٹ پر ایف سی اور فوج کے اعلیٰ حکام نے چیف سیکریٹری بلوچستان سے شکایت کی۔
مزید پڑھیں
جس پر چیف سیکریٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی نے معاملے کانوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ انسپیکشن ٹیم کے چیئرمین عبدالصبور کاکڑ کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی بناکر انہیں خصوصی طیارے کے ذریعے فوری تفتان پہنچنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم نے کمشنر رخشان ڈویژن سیف اللہ کھیتران کے ہمراہ جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور ایف سی کے اعلیٰ افسران سے ملاقات کی۔
ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے۔ سی ایم آئی ٹی کے چیئرمین عبدالصبور کاکڑ کے مطابق انکوائری کمیٹی نے ابھی تک اپنی رپورٹ مرتب نہیں کی۔
انکوائری کمیٹی کی رپورٹ سے قبل ہی چیف سیکریٹری نے دونوں افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا۔
محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن بلوچستان کے نوٹیفکیشن کے مطابق ڈپٹی کمشنر چاغی حسین جان بلوچ اور اسسٹنٹ کمشنر تفتان عصمت اللہ اچکزئی کو غیر ذمہ دارانہ رویے اور مس کنڈکٹ کی بنا پر معطل کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر حسین جان بلوچ نے انکوائری کمیٹی اور کمشنر رخشان کو دیے گئے بیان میں الزامات کو رد کیا ہےاور کہا ہے کہ ایف سی اہلکاروں نے سرکاری امور کی غرض سے ایران جانے والے ریلوے کے ڈویژنل ٹرانسپورٹ افسر محمد ابراہیم کو وزارت ریلوے کی جانب سے این او سی اور دیگر دستاویزات ہونے کے باوجود ایران جانے نہیں دیا اور مہمان افسر اور لیویز اہلکاروں کے ساتھ بدسلوکی کی۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق سیلاب متاثرین کے لیے امداد کے سلسلے میں ایرانی حکام سے مشاورت کے لیے ایران جانا تھا۔ (فائل فوٹو: اے پی)
ڈپٹی کمشنر کا مؤقف تھا کہ ریلوے افسر نے سیلاب متاثرین کے لیے امداد کے سلسلے میں ایرانی حکام سے مشاورت کے لیے ایران جانا تھا اور اس بات کا فیصلہ 14 ستمبر کو نیشنل ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ایک آن لائن اجلاس میں کیا گیا تھا۔ ضلعی انتظامیہ نے اسی فیصلے کی روشنی میں ریلوے افسر کو ایران جانے کے لیے راہداری دی تھی۔
خیال رہے کہ راہداری ویزا کا متبادل ایک خصوصی اجازت نامہ ہے جس پر پاکستان اور ایران کے سرحدی اضلاع کے باشندوں کو بغیر ویزا کے مخصوص مدت کے لیے ایک دوسرے کے ملک آنے جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔
ڈپٹی کمشنر چاغی کے مطابق ’پاکستان اور ایران کے درمیان 1960 کے معاہدے کے تحت راہداری دینے کا اختیار متعلقہ ضلعے کے ڈپٹی کمشنر اور راہداری گیٹ کا انتظام و انصرام متعلقہ ضلعی انتظامیہ کے ذمے ہے۔ اسی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ریلوے افسر کو راہداری دی گئی تھی۔‘
جبکہ ایف سی حکام نے انکوائری کمیٹی کو بتایا کہ راہداری پر صرف متعلقہ سرحدی ضلع کے رہائشیوں کو آنے جانے کی اجازت ہے۔
تاہم ڈپٹی کمشنر کا مؤقف تھا کہ اسی راہداری نظام کے ذریعے چیف  سیکریٹری بلوچستان سمیت بہت سے سرکاری اہلکار بھی ایران جا چکے ہیں۔ انہوں نے کمیٹی کو 2019 سے اب تک کا ریکارڈ بھی پیش کیا جس کے مطابق اب تک 68 افراد راہداری پر ایران جا چکے ہیں جن میں محکمہ داخلہ، ضلعی انتظامیہ، کسٹم، ریلوے، ایف آئی اے کے افسران اور تاجر بھی شامل ہیں۔ ریلوے کا مذکورہ افسر اس سے قبل 2019 میں بھی سرکاری امور کے سلسلے میں راہداری کے ذریعے ایران جا چکا ہے۔

حکام کے مطابق 25 ستمبر کو سرحد پر تعینات فرنٹیئر کور اور لیویز کے اہلکاروں کے درمیان جھگڑا بھی ہوا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ڈپٹی کمشنر نے اپنے بیان میں واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وقوعہ کے دن راہداری ہونے کے باوجود ایف سی اہلکاروں نے ریلوے افسر کو ایران جانے سے روکا تو انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر کو موقع پر بھیجا لیکن پھر بھی ایف سی اہلکار گیٹ کھولنے پر تیار نہیں تھے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق اس کے بعد وہ خود موقع پر گئے اور ایف سی اہلکاروں کو سمجھایا تاہم انہوں نے اپنے افسران کی اجازت کے بغیر کسی کو ایران جانے کی اجازت دینے سے انکار کیا۔
ڈپٹی کمشنر نے انکوائری کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے ایف سی کے متعلقہ افسران سے رابطہ کرنے کی بارہا کوشش کی لیکن انہوں نے فون کا جواب ہی نہیں دیا۔ بالاآخر ڈیڑھ گھنٹے کے انتظار کے بعد انہوں نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے قومی مفاد کی خاطر ریلوے افسر کو ایران جانے کی اجازت دی۔
ڈپٹی کمشنر نے مطالبہ کیا کہ اصل حقائق جاننے کے لیے مختلف محکموں کی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی سے تحقیقات کرائی جائیں۔