ریلوے کی1انچ زمین فروخت کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،سپریم کورٹ

فائل فوٹو

سپریم کورٹ نے کراچی میں پاکستان ریلوے کو تمام زمینوں کی فروخت، ٹرانسفر اور لیز دے روکتے ہوئے کہا ہے کہ ریلوے کی ایک انچ زمین فروخت کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

پیرکوسپریم کورٹ نے ریلوے کی کارکردگی پر برہمی اورعدم اطمینان کا اظہار کرديا۔ سپريم کورٹ کراچی رجسٹری ميں سماعت کے دوران چيف جسٹس نے سيکريٹری ريلوے سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے لوگوں کو مارنے کا ٹھیکہ لیا ہے۔ آپ کے یا کسی وزیر کے ساتھ کچھ نہیں ہوا اور صرف غریب مررہے ہیں۔پہلے بھی کہا تھا کہ سب کو نکالیں کیوں کہ یہ سب سیاسی بھرتیاں ہوئی ہیں۔

چیف جسٹس نےمزید ریمارکس دئیے کہ آپ لوگ زمینیں بیچ رہےہیں اور آپ کے افسران کا بس یہی کام رہ گیا ہے۔ اگر پاکستان ریلوے آپ سے نہیں چلتا تو جان چھوڑ دیں،کیوں عہدے سے چپک کر بیٹھے ہوئے ہیں۔

عدالت نےریلوے سے متعلق 2 دن میں وفاق سے رپورٹ طلب کرلی اور ريمارکس ديے کہ کراچی سے سکھر تک ریلوے ٹریک 82 فیصد خراب ہے۔ یہ ٹریک مسافروں کیلئے خطرناک اور ناقابل استعمال ہے۔

چیف جسٹس نےمزید ریمارکس دئیے کہ وزیر ریلوے نے کہا کہ مستعفی ہونے سے کوئی واپس آجاتا ہے تو تیارہوں۔وزیر ریلوے کا یہ بیان غیر ذمہ دارانہ تشویشناک ہے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وزیراعظم کو خود یہ معاملہ دیکھنا چاہيے۔

سپریم کورٹ نے خبردار کیا کہ سنا ہےکہ  زمینوں کے حوالے سے کوئی آرڈیننس آرہا ہے؟ اگر ایسا کوئی آرڈیننس آیا تو ہم اسٹرائیک ڈاؤن کردیں گے۔

متعلقہ خبریں