ریکوڈک عملدرآمد کیس میں’پاکستان کے حق میں فیصلہ، پی آئی اے کے منجمد اثاثے بحال‘

اٹارنی جنرل آف پاکستان کے مطابق برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ نے پی آئی اے کے منجمد اثاثے بحال کر دیے ہیں۔
منگل کی رات کو اٹارنی جنرل آف پاکستان کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ نے ٹیتھان کمپنی کی عملدرآمد درخواست خارج کر دی ہے اور اس کے بعد روزویلٹ ہوٹل نیویارک اور سکرائب ہوٹل پیرس میں لگائے ریسیور ہٹا دیے گئے ہیں۔
عدالت نے ٹیتھان کمپنی کو پاکستان کے قانونی چارہ جوئی پر ہونے والے اخراجات بھی ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
مزید پڑھیں
بیان کے مطابق  پی آئی اے کو دونوں ہوٹل بھی واپس مل گئے ہیں جبکہ ٹیتھان کمپنی فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کر سکے گی۔
یاد رہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوھدری نے ایک فیصلے کے ذریعے 2013 میں اس منصوبے کا معاہدہ منسوخ کیا تھا۔
ٹیتھیان کمپنی اس معاہدے کے تحت بلوچستان میں سونے، چاندی اور تانبے کے ذخائر تلاش کر رہی تھی۔
ٹیتھیان کاپر کمپنی  کے مقدمے کے بعد جولائی 2019 میں عالمی بینک کے سرمایہ کاری پر اٹھنے والے تنازعات کے تصفیے کے لیے بین الاقوامی سینٹر (انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انوسٹمنٹ ڈسپیوٹس) نے اس کیس میں پاکستان پر پانچ ارب 97 کروڑ ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا تھا۔
فیصلے کے مطابق پاکستان نے جرمانے، سود اور ٹیتھیان کاپر کمپنی کو اس کے مقدمے پر آنے والے اخراجات کے طور ادا کرنی تھی۔ تاہم گذشتہ سال ستمبر میں پاکستان نے جرمانے کی ادائیگی کے خلاف حکم امتناعی حاصل کر لیا تھا۔
اس وقت وزیراعظم عمران خان نے اس معاملے پر تحقیقاتی کمیشن بھی بنایا تھا۔

یہ علاقہ ضلع چاغی کے ہیڈ کوارٹر دالبدین سے 200 کلومیٹر جبکہ تفتان سرحد سے 60 سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے (فوٹو ٹیتھان)

ریکوڈک کہاں ہے؟

ریکوڈک بلوچستان کے ضلع چاغی کا ایک دور دراز علاقہ ہے۔ ریکوڈک بلوچی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’ریت کا ٹیلہ‘ ہے۔
یہ علاقہ ضلع چاغی کے ہیڈ کوارٹر دالبدین سے 200 کلومیٹر جبکہ تفتان سرحد سے 60 سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
ریکوڈک کی آبادی انتہائی کم ہے، گرمی میں اس کا درجہ حرارت 40 سے 50 سینٹی گریڈ جبکہ سردیوں میں منفی 10 سینٹی گریڈ تک گرتا ہے۔
ٹیتھیان کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق ریکوڈک کا علاقہ ٹیتھیان میگنیٹیک آرک کا حصہ ہے۔ یہ میگنیٹک آرک مرکزی اور جنوب مشرقی یورپ سے ہوتے ہوئے ترکی، ایران اور پاکستان سے ہوتے ہوئے میانمار، ملیشیا، انڈونیشیا اورپاپوا نیوگنی تک پھیلا ہوا ہے۔
یہ سارا علاقہ تانبے اور سونے کے ذخائر سے مالا مال ہے۔

آسٹریلوی کمپنی ٹیتھیان کینیڈا کی بیرک گولڈ اور چلی کی انٹوفیگسٹا منزلز کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے (فوٹو ٹیتھان)

ٹیتھیان کاپر کمپنی کیا ہے؟

آسٹریلوی کمپنی ٹیتھیان کینیڈا کی بیرک گولڈ اور چلی کی انٹوفیگسٹا منزلز کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔
کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق کے بلوچستان کی حکومت کے ساتھ کمپنی نے ریکوڈک میں اعلیٰ کوالٹی کے سونے اور تانبے کا جائزہ لینے کے لیے معاہدہ کیا۔

بلوچستان کو معاہدے پر تحفظات؟

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق بلوچستان کے عوام کی جانب سے ٹیتھیان کمپنی کے ساتھ معاہدے پر تحفظات سامنے آئے تھے۔ 
بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے 2014 میں بلوچستان کے سونے اور تانبے کے ذخائر کے بارے میں کسی بھی معاہدے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ’میں بلوچستان کا ایک بھی پتھر نہیں بیچوں گا، ریکو ڈک تو بہت بڑی چیز ہے۔‘