زرداری سے 33 ارب روپےکی وصولی؟ پلوشہ خان کاتبصرہ

ندیم ملک لائیو میں گفتگو

Your browser does not support the video tag.

پیپلزپارٹی کی رہنما پلوشہ خان نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں آصف علی زرداری سے 33 ارب روپے کی وصولی کی خبروں کو غلط قرار دیا ہے۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ جعلی اکاؤنٹس کیس میں آج تک زرداری سے 33 پیسے ریکور نہیں ہوئے 33 ارب روپے کس بات پر وصول کیے جائیں گے، یہ بات جھوٹ پر مبنی ہے۔پیپلزپارٹی کی رہنما کہ نے پیپلزپارٹی کے حوالے سے ڈیل کے تاثر کو بھی غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم تو آج بھی کیسز بھگت رہے ہیں۔پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ آج بھی ملک میں سب سے زیادہ دباؤ آصف زرداری کے اوپر ہے اور سمجھ میں نہیں آ رہا کہ انہیں کون سا ریلیف ملا ہے جو نظر ہی نہیں آ رہا۔قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فوج کی تعریف کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس میٹنگ میں صرف شہبازشریف نے ہی نہیں بلکہ تمام سیاسی رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف آرمی کے کرادر کی تعریف کی تھی۔پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے استعفوں والی بات پر ہمارے الگ ہونے کے بعد بھی عمل نہیں کیا۔رہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ہمارے دور حکومت میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا جبکہ آصف زرداری کو اتنا عرصہ جیلوں میں رکھا گیا ان کی تو جوانی جیلوں میں گزر گئی تھی۔پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ ن زبیرعمر کا کہنا تھا کہ اگر قومی سلامتی اجلاس میں شہبازشریف نے آرمی چیف کے وژن کی تعریف کی تھی تو انہیں ان کا وژن پسند آگیا ہوگا۔زبیرعمر نے کہا کہ آرمی چیف نے اجلاس کے آغاز میں کہا تھا کہ ماضی میں ہم سے بھی غلطیاں ہوئیں اور سیاست دانوں نے بھی غلطیاں کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن اختلاف رائے ضرور ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں دیوار سے لگا دیا گیا اور اگر کوئی رہنما گرفتار ہوتا ہے تو ہم شور ضرور مچائیں گے لیکن پھر لوگ یہ بھی کہتے ہیں آپ لوگ ریڈ لائن کراس کرتے ہیں تو یہ کیوں نہیں دیکھا جاتا کہ حالات اس نہج تک پہنچے کیوں۔پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما تحریک انصاف عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جو صورتحال پیدا ہورہی ہے اس میں ہمیں سیاسی استحکام اور اتحاد کی ضرورت ہے۔عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر ہمیں قومی سلامتی کے معاملات پر ایک ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا سیاسی بے روزگار کوششوں میں لگے ہیں شہبازشریف پاؤں پکڑنے کی بات کر رہے ہیں جبکہ بلاول بھٹو سی وی دینے امریکا جارہے ہیں۔عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی کا بیان سامنے آچکا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں الیکشن چوری کا تجربہ ہے آج ن لیگ اور پیپلزپارٹی والے خود ایک دوسرے کو ایکسپوز کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان دونوں جماعتوں کے اصل چہرے عوام کے سامنے آچکے ہیں یہ دن میں عوام میں جا کر ڈینگیں مارتے ہیں اور رات کو پیروں پر گر جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں