زعفران کی تاجر افغان خاتون کا طالبان کے اقدامات پر ’خاموش نہ رہنے‘ کا عزم

ایک افغان خاتون بزنس لیڈر نے اپنی خواتین کارکنوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا عزم کیا ہے اور کہا ہے کہ طالبان کے دور میں ’خاموش نہیں رہوں گی۔‘
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہرات کی تاجر خاتون شفیقہ عطائی کے زعفران کے کھیتوں میں سینکڑوں خواتین کام کرتی ہیں۔
مزید پڑھیں
  • طالبان کا خواتین کے ساتھ سلوک ’ریڈ لائن‘ ہوگا: اقوام متحدہ

    Node ID: 594046

  • طالبان حکومت میں افغان خواتین کے حقوق پر اقوام متحدہ کو ’تشویش‘

    Node ID: 598546

  • افغان خواتین فٹبالرز ملک چھوڑ کر پاکستان پہنچ گئیں

    Node ID: 600351

طالبان نے اگست کے وسط میں اقتدار میں آنے کے بعد سے خواتین کو تیزی سے عوامی زندگی سے خارج کر دیا ہے۔ ان قدامات نے بہت سی خواتین تاجروں کو ملک چھوڑنے یا روپوش ہونے پر مجبور کیا ہے۔
اس وقت بہت سے لوگوں کو خوف ہے کہ کہیں 1996 سے 2001 تک طالبان کی جابرانہ حکمرانی لوٹ نہ آئے جب خواتین پر سکول یا کام پر جانے پر مکمل پابندی عائد کی گئی تھی اور انہیں صرف مرد رشتہ دار کے ساتھ گھر سے نکلنے کی اجازت تھی۔
2007 میں افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں اپنی زعفران کی کمپنی شروع کرنے والی شفیقہ عطائی نے کہا کہ ’ہم اپنی آواز بلند کریں گے تاکہ یہ ان کے کانوں تک پہنچے۔‘
’جو بھی ہو ہم محض گھر پر نہیں بیٹھیں گے کیونکہ ہم نے بہت محنت کی ہے۔‘

40   سالہ شفیقہ نے کہا کہ ’میں نے اپنا کاروبار قائم کرنے کے لیے سخت محنت کی۔ ہمیں خاموش بیٹھ کر نظر انداز ہونا قبول نہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
شفیقہ عطائی کی’پشتون زرغون سیفرون ویمن کمپنی‘زیادہ تر خواتین پر مشتمل افرادی قوت کے ساتھ دنیا کا مہنگا ترین مسالہ تیار اور برآمد کرتی ہے۔
ایران سے متصل صوبہ ہرات کے ضلع پشتون زرغون میں کمپنی کی 60 ایکڑ اراضی میں ایک ہزار سے زائد خواتین کام کرتی ہیں۔
شفیقہ عطائی نے کہا کہ خواتین کو ملازمت ملنے سے وہ اپنے خاندانوں کے لیے روزی کمانے کے قابل ہو سکتی ہیں۔ اس ملازمت سے وہ اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کے ساتھ ساتھ اپنے لیے کپڑے اور دیگر ضروریات زندگی حاصل کر سکتی ہیں۔‘
40   سالہ شفیقہ نے کہا کہ ’میں نے اپنا کاروبار قائم کرنے کے لیے سخت محنت کی۔ ہمیں خاموش بیٹھ کر نظر انداز ہونا قبول نہیں۔ اگر وہ ہمیں نظر انداز کریں گے تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔‘
معزول ہو جانے والی امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت نے کسانوں کو مختلف قسم کے پکوانوں میں استعمال ہونے والے مسالے اگانے کی ترغیب دی تھی تاکہ انہیں افغانستان کی بڑی اور مسائل پیدا کرنے والی پوست کی صنعت سے دور کیا جا سکے۔
لیکن اس کے باوجود بھی افغانستان اب تک دنیا کا سب سے بڑا افیون اور ہیروئین پیدا کرنے والا ملک ہے جو عالمی پیداوار کا 80 اور 90 فیصد کے درمیان فراہم کرتا ہے۔
اقتدار میں اپنے سابق ​​دور کے دوران طالبان نے پوست کی بیشتر فصل کو تباہ کر دیا تھا لیکن ناقدین کا کہنا تھا کہ ان کا یہ اقدام پوست کے بڑے ذخیرے کی قیمت کو بڑھانے کے لیے تھا۔ طالبان نے اپنے سابق دور سے قبل اپنی مسلح تحریک کو فنڈ دینے کے لیے افیون کی فروخت کا استعمال کیا تھا۔

ایران سے متصل صوبہ ہرات کے ضلع پشتون زرغون میں کمپنی کی 60 ایکڑ اراضی میں ایک ہزار سے زائد خواتین کام کرتی ہیں۔(فوٹو: اے ایف پی)
افغانستان میں حالیہ برسوں میں پوست کی کاشت دوبارہ بڑھ گئی ہے کیونکہ غربت اور عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان کا پیداواری علاقہ اب 2002 کے مقابلے میں تقریباً چار گنا بڑا ہے۔
افغانستان کی زیادہ تر زعفران ہرات صوبے میں پیدا ہوتی ہے۔
 پانچ ہزار ڈالر فی کلوگرام سے زائد قیمت کا حامل زعفران دنیا کا مہنگا ترین مسالہ ہے اور شفیقہ عطائی کی کمپنی ہر سال 200 سے 500 کلو کے درمیان زعفران پیدا کرتی ہے۔
پھول کی یہ ’تار‘ صدیوں سے دنیا بھر میں کھانا پکانے، پرفیومز، ادویات، چائے اور یہاں تک کہ جنسی طاقت حاصل کرنے کی دوا کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے اور اس کی زیادہ قیمت کی وجہ سے اس کی کاشت پر انحصار کرنے والے اسے ’ریڈ گولڈ‘ کہتے ہیں۔

شفیقہ عطائی نے کہا کہ اب جب کہ امارت اسلامیہ کی حکومت ہے ہم بہت پریشان ہیں کہ وہ ہمارا کام روک دیں گے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
گرم دھوپ میں اگائے جانے والے روشن جامنی زعفران کے پھول اکتوبر اور نومبر میں مزدوروں کی بڑی تعداد کے ذریعے کاٹے جاتے ہیں۔ ان کھیتوں میں کام کرنے والی اکثر خواتین 50 اور 60 برس کی عمر میں ہیں جو طلوع فجر سے پہلے ہی زعفران چننا شروع کر دیتی ہیں۔
شفیقہ عطائی نہ صرف اپنے کاروبار کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں بلکہ افغانستان بھر میں ان خواتین کے لیے بھی پریشان ہیں جو ملازمتوں، تعلیم اور حکومت میں نمائندگی کے بارے میں بے یقینی کی شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب جب کہ امارت اسلامیہ کی حکومت ہے ہم بہت پریشان ہیں کہ وہ ہمارا کام روک دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’انہوں(طالبان) نے لڑکیوں کو سکول اور یونیورسٹی واپس جانے کی اجازت نہیں دی اور انہوں نے حکومت میں خواتین کو کوئی عہدے نہیں دیے۔میں پریشان ہوں کہ کیا ہو گا۔‘
’میں صرف اپنے بارے میں نہیں سوچ رہی ہوں ، میں ان سب کے بارے میں سوچ رہی ہوں جنہیں یہ کاروبار ان کے گھر چلانے میں مدد دیتا ہے۔‘

شفیقہ عطائی نے کہا کہ فی الحال وہ اپنے وطن میں رہ رہی ہیں کیونکہ انہیں اپنے کاروبار کے زندہ رہنے کی ’کچھ امید‘ ہے۔(فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے بتایا کہ اس کے کچھ ملازمین اپنے خاندانوں کے واحد کفیل ہیں۔
’میں پریشان ہوں کہ ان خواتین کی 20 سال کی محنت ضائع ہو جائے گی۔‘
امریکی قیادت میں طالبان کو 2001 میں بے دخل کرنے اور ان کی واپسی کے درمیان کے 20 برسوں میں بہت سی خواتین بزنس لیڈر بن گئیں، خاص طور پر ہرات جیسے شہروں میں ان کی مناسب تعداد ہے۔
شہر کے چیمبر آف کامرس کے سربراہ یونس قاضی زادہ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ طالبان باضابطہ اعلان کریں گے کہ ’خواتین اس حکومت کے تحت بھی واپس آ سکتی ہیں اور کاروبار کر سکتی ہیں۔‘
قاضی زادہ نے مزید کہا کہ ‘ہماری امید یہی ہے کہ ملک میں دوبارہ خواتین کے کاروبار شروع ہوں۔‘
شفیقہ عطائی نے کہا کہ فی الحال وہ اپنے وطن میں رہ رہی ہیں کیونکہ انہیں اپنے کاروبار کے زندہ رہنے کی ’کچھ امید‘ ہے۔
افغانستان سے امریکی انخلا سے پہلے لگ بھگ ایک لاکھ 24 ہزار افراد کو کابل سے نکالا گیا۔

’جو عورت دن رات اپنے کھیتوں میں کام کرتی ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
شفیقہ عطائی کہتی ہیں کہ ’میں بھی ملک چھوڑ سکتی تھی لیکن میں نے نہیں چھوڑا کیونکہ وہ تمام محنت جو ہم نے کی، ضائع چلی جاتی۔‘
انہوں نے طالبان کے بارے میں کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ وہ ہمارے کام کو بند کریں گے۔‘
’ہم ایک ایسی کمپنی ہیں جو مکمل طور پر خواتین کے ذریعے چلائی جاتی ہے اور یہاں خواتین ہی کو  ملازمت دی جاتی ہے، کوئی بھی اس سلسلے کو روکنے کی جرات نہیں کر سکتا۔‘
’جو عورت دن رات اپنے کھیتوں میں کام کرتی ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘