زمین پرقبضہ، ایڈمنسٹریٹر ڈی ایچ اے لاہور ہائیکورٹ میں طلب

LHC

فوٹو: لاہور ہائیکورٹ ویب سائٹ

لاہور ہائی کورٹ نے 50 کنال اراضی پر قبضے سے متعلق ایک مقدمے میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے ایڈمنسٹریٹر بریگیڈیئر وحید گل ستی کو تمام ریکارڈ کے ساتھ جمعرات کو طلب کرلیا۔

بی بی سی اردو ویب سائٹ پر شائع ایک خبر کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے وکیل الطاف الرحمان کو ہدایت کی کہ ڈی ایچ اے ایڈمنسٹریٹر بریگیڈئیر وحید گل ستی کو کہیں کہ وہ اپنے سٹار اور ٹوپی اتار کر آئے اگر ان کے خلاف قبضہ ثابت ہو گیا تو یہیں سے ہتھکڑی لگا کر جیل بھیجوں گا۔

واضح رہے کہ تین درخواست گزاروں نے متروکہ وقف املاک سے بالترتیب 70 کنال، 50 کنال اور 5 کنال اراضی حاصل کی مگر ڈی ایچ اے نے انہیں کسی بھی قسم کی تعمیر سے یہ کہہ کر روک دیا کہ یہ زمین پہلے ہی ڈی ایچ اے کے استعمال میں ہے۔

دوران سماعت ڈی ایچ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بریگیڈیئر ستی اسلام آباد میں سپریم کورٹ میں ایک مقدمے میں پیش ہونے کیلئے گئے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ایڈمنسٹریٹر سے کہیں کہ وہ جمعرات کو مکمل ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوں۔

برطانوی ویب سائٹ کے مطابق دوران سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ فوج تو سب سے بڑا قبضہ گروپ بن چکی ہے، فوج نے لاہور ہائیکورٹ کی 50 کنال زمین پر بھی قبضہ کر رکھا ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ وہ رجسٹرار سے کہیں گے کہ وہ آرمی چیف کو فوج کے زمین پر قبضے سے متعلق خط لکھیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے سرکاری وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سی سی پی او سے کہو کہ اگر وہ اس مقدمے میں پیش ہونے سے ڈرتے ہیں تو آئی جی کو بھیج دیں۔