سابق اہلیہ کو گھر کے کام کا معاوضہ ادا کریں، چینی عدالت کی شہری کو ہدایت

چین کی عدالت نے طلاق کے کیس میں تاریخ ساز فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ’سابقہ بیوی کو کئی سال بلا معاوضہ گھر کا کام کرنے کے پیسے دیے جائیں۔‘
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ’عدالت نے چینی شہری کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی سابقہ بیوی کو بلا معاوضہ گھر کا کام کرنے کے 8,000 ڈالر ادا کرے۔‘
اس تاريخ ساز عدالتی فیصلے نے چین میں بحث چھیڑ دی ہے جس میں خواتین کے گھر میں کام کرنے کی قدر و قیمت پر تنقید کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں
چین میں رواں سال متعارف ہونے والے قانون کے تحت شوہر یا بیوی کو حق حاصل ہے کہ وہ گھر میں زیادہ ذمہ داریاں نبھانے کی صورت میں طلاق کے دوران معاوضے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
طلاق کے حالیہ کیس میں سابقہ بیوی وانگ نے بیجنگ کی عدالت کو بتایا کہ ’شادی کے پانچ برس کے دوران وہ بچے کی پرورش کے ساتھ ساتھ گھر کا کام بھی کرتی رہی ہیں، جبکہ ان کے شوہر نے گھر کی ذمہ داری نبھانے میں کوئی دلچسپی نہیں لی، سوائے نوکری پر جانے کے۔
عدالت میں دائر درخواست میں وانگ نے گھر کا کام کرنے اور بچے کی پرورش کا اضافی معاوضہ مانگا ہے۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق ’گھر کی زیادہ ذمہ داری نبھانے پر وانگ کو 50 ہزار چینی یوآن ادا کیے جائیں جبکہ 2 ہزار یوآن مالی معاونت کے طور پر دیے جائیں۔‘
چینی میڈیا کے مطابق خاتون نے عدالت سے ایک لاکھ 60 ہزار یوآن معاوضہ ادا کرنے کی درخواست کی تھی، جبکہ عدالت نے صرف 50 ہزار معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

معاوضے کی رقم کم طے کرنے پر عدالت پر تنقید کی جا رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
عدالتی فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر خواتین کے گھر کی ذمہ داریاں بلا معاوضہ نبھانے کی قدر و قیمت پر بحث چھڑ گئی۔
ٹوئٹر پر چھڑنے والی بحث میں ایک خوتون نے تبصرہ کرتے ہوئے تنقید کی کہ ’خواتین کو کبھی بھی گھر نہیں بیٹھنا چاہیے، طلاق کے بعد انہیں کچھ نہیں ملتا۔‘
ایک اور خاتون نے 50 ہزار کے معاوضے پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’کیا خواتین کی جوانی اور احساسات اتنے سستے ہیں؟ ’اس سے زیادہ تو بچے کی آیا چھے ماہ میں کما لیتی ہے۔‘