سابق صدر ڈاکٹرنجیب کا سیاسی سفراور طالبان کےہاتھوں دردناک موت

افغانستان میں لبرل نظریات کے حامل افراد کے لیے پسندیدہ اور مذہبی لوگوں کی نظر میں ناپسندیدہ ترین شخص ڈاکٹر نجیب کو آج سے 25 سال قبل طالبان کی جانب سے قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کو کرین پر لٹکا دیا گیا تھا۔

یکم جنوری 1995 کو قائم ہونے والی  پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان (پی ڈی پی اے) کے سویت یونین کے ساتھ قریبی تعلقات تھے لیکن یہ پارٹی بعد میں دوحصوں میں تقسیم ہوکر خلق اور  پرچم  کے نام سے پکاری جانے لگی۔ خلق کی قیادت نور محمد ترکئی اور حفیظ اللہ امین کے ہاتھوں میں تھی جبکہ پرچم کی قیادت ببرک کارمل نے کی۔

ظاہر شاہ خاندان پر بدعنوانی کے الزامات کے بعد سردار داؤد 17 جولائی 1973 کو اقتدار پر قبضہ کرکے صدر بن گئے۔ تاہم 28 اپریل 1978 کو پی ڈی پی اے کے رہنماؤں نور محمد ترکئی، ببرک کارمل اورامین طلحہ نے سردار داؤد حکومت کو ختم کیا اور سردار داؤد اور ان کے خاندان کے دیگر افراد خونیں فوجی کارروائی میں قتل کر دیے گئے۔

یکم مئی کو نور محمد ترکئی ملک کے صدر بن گئے جبکہ 14 ستمبر کو حفیظ اللہ امین نے نورمحمد ترکئی کو معزول کردیا جس کے بعد نور محمد ترکئی قتل کر دیے گئے اور حفیظ اللہ امین اقتدار پر قابض ہوئے۔

افغانستان میں اقتدار کی رسہ کشی کے دوران سویت یونین نے 24 دسمبر 1979 کو افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کیں جس کے فوراً بعد ہی 27 دسمبر 1979 کو حفیظ اللہ امین بھی قتل کر دیے گئے جبکہ سویت یونین نے اقتدار ببرک کارمل کے حوالے کیا۔

افغانستان میں سوویت افواج کی آمد کے بعد اسلام پسند مجاہدین جہاد شروع کرچکے تھے ان حالات میں سوویت یونین کو افغانستان میں ایک مضبوط خفیہ ایجنسی کی ضرورت تھی۔

اس ضرورت کے پیش نظر سوویت کے جی بی کے سربراہ پولٹ بیورو نے افغان خفیہ ایجنسی خاد کو وسعت دینے اور فعال کرنے کا منصوبہ بنایا اور ان کی ہدایت پر نجیب کو میجر جنرل کا عہدہ دے کر خاد کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔

خاد میں صرف 100 سے 150 ایجنٹ کام کررہے تھے تاہم نجیب نے خاد کو کے جی بی کے مشیروں کی ہدایات کے مطابق فعال بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔

نجیب کے دور میں خاد کے ملازمین کی تعداد 150 سے بڑھ کر 30 ہزار تک جا پہنچی جبکہ اس ایجنسی کے مخبروں اور جزوقتی ملازمین کی تعاد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی۔ خاد کا اہم ترین مقاصد میں ملک میں کمیونسٹ نظریات کی ترویج، مخالفین کا صفایا اور پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں شامل تھے۔

بین الاقوامی دباؤ اور مجاہدین کی کارروائیوں کے باعث سویت یونین نے 15 مئی 1988 کو افغانستان سے فوجیں نکالنی شروع کیں اور15 فروری 1989 تک وہ انخلاء مکمل ہوا۔

سویت یونین نے افغانستان میں پیش آنے والی مختلف ناکامیوں کا تمام تر ملبہ سویت یونین نے ببرک کارمل پر ڈال دیا تھا اور اس کے بعد ببرک کارمل کی جگہ ستمبر1987 میں اقتدار ڈاکٹر نجیب اللہ کے حوالے کردیا گیا تھا۔

ایک ایسے وقت میں جب مختلف مجاہدین تنظیمیں کابل کی طرف گامزن تھیں اور ان سب کا مقصد داکٹر نجیب کو اقتدار سے ہٹانا تھا کیوں کہ وہ انہیں نہ صرف سوویت یونین کی کٹھ پتلی بلکہ اسلام دشمن بھی سمجھتے تھے۔

سیاسی حالات انتہا ئی خراب ہونے پر اپریل 1992 میں ڈاکٹر نجیب اللہ سے زبردستی استعفیٰ لے لیا گیا۔

ڈاکٹر نجیب پاکستان کے سخت مخالف تصور کیے جاتے تھے اور انہوں نے افغان عوام میں پاکستان کے خلاف نفرت کے بیج بونے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہیں بھارت نواز ہونے کے باوجود بھارت کی جانب سے پناہ دینے کی نیم دلی کے ساتھ ایک کوشش کی گئی تھی جو کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔

اگرچہ ان کی بیوی اور بچوں کو بھارت نے پناہ دے ہوئی ہے لیکن افغان عوام میں ان کی شدید نفرت کے باعث بھارت انہیں پناہ دینے کا خطرہ مول نہیں لے سکا۔

ڈاکٹر نجیب بھی اشرف غنی کی طرح اپنی انتظامی نااہلی، سیاسی عدم استحکام کو چھپانے کی غرض سے مذہبی منافرت اور لسانی تعصب کا شکار اپنے عوام پاکستان دشمنی پر متحد کرنا چاہتے تھے مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے کہ کیوں کہ عوام کے حقیقی مسائل اور امنگیں کچھ اور تھیں۔

صدارت سے ہٹائے جانے کے بعد نجیب اللہ اگلے ساڑھے 4 سال کابل میں اقوام متحدہ کے دفتر میں رہے مگر 27 ستمبر 1996 کو طالبان اقوام متحدہ کے دفتر میں گھس گئے اور نجیب اللہ کو گھسیٹ کر باہر لے آئے۔

طالبان نے نجیب کو سر میں گولی مار کر قتل کرنے کے بعد ان کی لاش پہلے ایک کرین پر لٹکائی اور پھر اسے صدارتی محل کے قریب ایک کھمبے سے لٹکا دیا گیا۔

طالبان نے ان کی نمازِ جنارہ بھی نہیں پڑھائی تاہم بعد میں نجیب اور ان کے بھائی کی لاشوں کو ریڈ کراس کے حوالے کر دیا گیا جس نے لاش کو ان کے آبائی صوبہ پکتیا کے شہر گردیز منتقل کیا جہاں احمد زئی قبیلے کے لوگوں نے ان کی تجہیز و تکفین کی۔

تازہ ترین

پاکستان میں 40فیصد تعلیم یافتہ خواتین بیروزگار ہیں، رپورٹ
جرمنی: کرسچن ڈيموکريٹک پارٹی کے طویل اقتدار کا خاتمہ
وزیرخزانہ کا آئی ایم ایف پروگرام جاری رکھنے کاعزم
شہبازشریف،سلیمان شہباز کی بریت کی خبر غلط ہے، شہزاداکبر