’سب برا نہیں ہے، ہم سیکھ رہے ہیں، ورلڈ کپ ہمارا ہدف ہے‘

آگے دوڑ پیچھے چھوڑ! کچھ یہی حال چند سالوں سے پاکستان کرکٹ کا بھی ہے۔
ہار پر جہاں تنقید ہوتی ہے وہیں ایک آدھ جیت کے بعد جو مثالی جشن ہمارے ہاں ہوتا ہے اس سے اکثر ہمیں کمی و کوتاہی بھول جاتی ہے۔ حال ہی میں ہم نے پاکستان کی لگاتار چھ سیریز (جن میں سے دو زمبابوے کے ساتھ تھیں) کی فتح کا جشن منایا۔ وہ منحوس ایسا جشن تھا کہ اس کے بعد پاکستان کو لگاتار تین مقابلوں میں ہار اور دو عدد سیریز میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس سب میں کچھ تنقید بھی ہوئی اور ’انگلینڈ ( ویلز) کا دورہ آسان نہیں ہوتا‘ ایسے بہانے بھی سننے کو ملے۔ ہمیں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ ٹیم ارتقائی عمل سے گزر رہی ہے اور ہمارا ہدف ورلڈ کپ (یہ نہیں بتایا جاتا کہ کون سے سال کا) ہے۔
ہماری کرکٹ ٹیم کے ارتقائی عمل یا ری بلڈنگ پراسیس کا حل پاکستان کے اسی تاریخی موڑ کا سا ہے جو کہ مڑا ہی نہیں جا رہا۔ 
مزید پڑھیں
انگلینڈ کے اولین درجہ کے کھلاڑیوں کی عدم موجودگی بھی پاکستان کے لیے کارگر ثابت نہ ہوئی اور ایک روزہ مقابلوں میں تین-صفر کا ریکارڈ ہمارا ’رکارڈ‘ لگانے کو کافی ہے۔
کسی میچ میں ہمارے ٹاپ آرڈر کا نہ چلنا ہمارے لیے ہار کا سبب تھا، تو کسی میچ میں ہماری فیلڈنگ اور باؤلنگ کو مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ لارڈز ون ڈے میں اگر ہماری باؤلنگ چلی ہی تو بیٹنگ لائن نے ساتھ نہ دیا۔ خیر ویسے بھی ہماری بیٹںگ لائن کا حال ایک مڈل کلاس بندے کی قسمت کا سا ہی ہے، کم ہی ساتھ دیتی ہے۔ 
ایک روزہ مقابلوں میں شکست کے بعد کپتان بابراعظم نے ‘ہم نے بہت کچھ سیکھا آئندہ ان غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے‘ کا رٹا رٹایا پہاڑہ سنا دیا۔ وہیں کوچ مصباح الحق کا کہنا تھا کہ اس قسم کی کارکردگی کا کسی طرح بھی سے دفاع نہیں کیا جا سکتا لیکن ساتھ ہی جنوبی افریقہ کے خلاف کامیابیاں گنوا کر ‘سب برا نہیں ہے’ والی بات کر دی۔

انگلینڈ کے خلاف دوسرے ون ڈے میں پاکستان کو 52 رنز سے شکست ہوئی۔ فوٹو اے ایف پی
جبکہ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم پر کورونا وائرس وار کرتا ہے تو وہ ایک دوسری ٹیم کھڑی کر دیتے ہیں اور ہمارا حال یہ ہے کہ ہمیں آج تک اپنے مڈل آرڈر کے مسائل کا حل ہی نہیں مل پا رہا۔ 
ٹی20 سیریز کی بات کریں تو پہلے ٹی20 میں جہاں ٹیم نے 232 رنز بنا کر  ایک امید جگائی کہ بیٹنگ لائن میں جان ہے اور میچ کی فتح نے ایک امید بھی دلائی، لیکن دوسرے ہی میچ میں جب پاکستان ٹیم کو 200 سے زائد رنز کا تعاقب کرنا تھا تو اسی جاندار بیٹنگ لائن کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے محسوس ہونے لگے۔
نائب کپتان شاداب خان کا میچ کے بعد کہنا تھا کہ اگر پاکستان کو 170 رنز کا تعاقب کرنا ہوتا تو نتیجہ مختلف ہوتا۔ یہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ پہلے میچ میں صرف لیام لونگسٹن کی بلے بازی ہی دیکھ لی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ لمبے سکور کے تعاقب میں کی جانے والی سنجیدہ کوشش کیسی نظر آتی ہے۔ اب اگر یہ دہائی دیں تو ‘انہوں نے اپنی ہوم کنڈیشنز کو اچھا استعمال کیا’ سننے کو مل جاتا ہے۔ 
بات کریں کنڈیشنز کی تو تیسرے میچ میں یہ قلعی بھی کھل گئی کہ پاکستان ٹیم سپنرز کو اچھا کھیلتی ہے، اولڈ ٹریفرڈ میں سپن کے لیے سازگار کنڈیشنز کو انگلش باؤلرز نے امید سے بڑھ کر خوب استعمال کیا۔ گو کہ جواب میں پاکستانی سپنرز نے بھی اچھی بالنگ کی لیکن یہ سوال بھی سر اٹھانے لگا کہ جس ورلڈ کپ کی تیاری پچھلے دو سال سے جاری ہے اس میں متحدہ عرب امارات کی سپن سازگار وکٹوں پر ہماری بیٹنگ کا کیا حال ہوگا۔

بابراعظم نے انگلینڈ کے خلاف 158 رنز کی شاندار انفرادی اننگز کھیلی تھی۔ فوٹو اے ایف پی
یاد آتا ہے کہ 2018  میں ہمارے ہوم گراؤنڈز کہلانے والے دبئی اور ابوظہبی میں کیسے بھارت اور بنگلہ دیش کے ہاتھوں ہار کر ہمیں ایشیا کپ سے باہر ہونا پڑا، افغانستان والا میچ کس مشکل سے جیتے وہ بھی ہمیں یاد ہوگا۔ 
ٹی20 سیریز میں شکست کے بعد بھی کوچ مصباح الحق کا رد عمل وہی تھا۔ ہم ورلڈ کپ کی تیاری کر رہے ہیں، ہمارے مڈل آرڈر کو پرفارم کرنے کی ضرورت ہے،  نتائج ہمارے حق میں نہیں آئے لیکن ہمیں کافی کچھ سیکھنے کو ملا وغیرہ وغیرہ۔۔
انگلستان میں شکست کے بعد اب پاکستان ٹیم جزائر غرب الہند کے قلعہ کو فتح کرنے پہنچ چکی ہے۔ ہمیں پھر سے پیچھے کو چھوڑ آگے دیکھنے کا درس دیا جائے گا، مقابلوں کی خوب ہائپ بنائی جا رہی ہے۔
ہائپ بنانا اور کھلاڑیوں کی پروفائل سازی ایک اچھا عمل ہے لیکن دلہن وہی جو پیا من بھائے کے مصداق ہائپ اور سوشل میڈیا مواد بھی تب ہی کارگر ہوتا ہے کہ جب میدان میں کارکردگی اچھی ہو۔ گاڑی میں ہزار خوبیاں ہو لیکن اگر وہ گاڑی چل نہیں سکتی تو وہ بے کار ہی کہلائے گی۔ 
ویسٹ انڈیز کی ٹیم جس نے حال ہی میں آسٹریلیا کو ٹی20 سیریز میں شکست دی ہے اور ورلڈ کپ کے لیے بھرپور تیار ہے، کے مقابلے میں ’ازلی ارتقائی عمل‘ سے گزر رہی ہے۔

ویسٹ انڈیز کو دو مرتبہ ٹی ٹوئنٹی کے چیمپیئن ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ فوٹو اے ایف پی
پاکستان ٹیم کی کارکردگی کیا ہوگی یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن امید واثق ہے کہ جیت کی صورت میں ہمارا جشن ایسا ہوگا کہ ہمیں اپنی تمام شکستیں اور تمام کوتاہیاں بھلانے میں مدد دے گا اور اگر ہار گئے تو وہی رسمی جملے، سب برا نہیں ہے، ہم سیکھ رہے ہیں، رلڈ کپ ہمارا ہدف ہے، غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا وغیرہ وغیرہ، سننے کو ملیں گے۔