سرحدی قصبے سپن بولدک پر کنٹرول کے لیے افغان فورسز اور طالبان کی لڑائی

افغان فورسز کی پاکستان سے متصل سرحدی گزرگاہ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے طالبان کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سپن بولدک میں ہونے والی لڑائی سے کئی ہفتے پہلے طالبان نے بہت تیزی سے مختلف اضلاع کا کنٹرول حاصل کرنا شروع کر دیا تھا۔
طالبان نے پاکستانی کی سرحد کے علاوہ شمال اور مغرب میں اہم سرحدی گزرگاہوں پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔
مزید پڑھیں
ایک سینیئر پاکستانی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ جمعے کی دوپہر تک افغانستان کی طرف سے بھاری ہتھیاروں کی آواز آتی رہی اور کہا کہ سرحدی گزرگاہ پر طالبان کا جھنڈا ابھی تک لہرا رہا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ’ان جھڑپوں میں زخمی ہونے والے درجنوں طالبان کو علاج کے لیے پاکستان کے سرحدی شہر چمن کے ہسپتال میں لایا گیا۔‘
چمن سرحد سے پانچ کلومیٹر اندر چمن کے قریب ایک طالبان ملا محمد حسن نے کہا کہ ’ہماری ایک ہلاکت ہوئی ہے اور ہمارے درجنوں ساتھی زخمی ہوئے ہیں۔‘
سپن بولدک چمن بارڈر گزرگاہ جنوبی افغانستان کے لیے معاشی لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرکے طالبان کو بہت فائدہ ہوگا کیونکہ وہ یہاں سے روزانہ گزرنے والی ہزاروں گاڑیوں سے ٹیکس وصول کریں گے۔
جمعے کی دوپہر کو یہ سرحد بند کر دی گئی جس سے دو ہزار کے قریب لوگ پاکستانی سائیڈ پر پھنس گئے۔
طالبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ انہوں نے شمال میں رشید دوستم کے زیر کنٹرول علاقے پر بھی قبضہ کر لیا ہے اور ان کی ملیشیا جوزان صوبے کے دارلخلافہ شبرگن کو چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔

جوزان صوبے کے گورنر نے تصدیق کی طالبان شہر کے دروازے تک پہنچے (فوٹو اے ایف پی)
طالبان ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے ایک واٹس ایپ میسج میں کہا کہ طالبان نے شہر کے گیٹ پر ’قبضہ‘ کر لیا ہے اور ’دوستم کی ملیشیا شہر چھوڑ کر ایئرپورٹ کی طرف بھاگ گئی ہے۔‘
جوزان صوبے کے گورنر نے تصدیق کی طالبان شہر کے دروازے تک پہنچے، لیکن حکومتی فورسز انہیں واپس دھکیل رہی ہیں۔
رشید دوستم کے جنگوؤں کی شکست سے افغان حکومت کی ان امیدوں پر پانی پھر جائے گا جن کے تحت وہ سمجھ رہے تھے ملیشیا گروپ افغان فوج کی مدد کریں گے۔
افغان نائب صدر کی جانب سے ’طالبان کو کئی علاقوں میں فضائی سپورٹ‘ دینے کے الزام کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی لفظی جنگ جاری ہے۔
پاکستان نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔
دوحہ مذاکرات
افغانستان کی جنوبی سرحد اس کے مشرق میں واقع ہمسائے کے ساتھ ہمیشہ سے ایک فلیش پوائنٹ رہی ہے۔
پاکستان کا سرحدی صوبہ بلوچستان طالبان قیادت اور جنگوؤں کا گھر رہا ہے جہاں سے وہ باقاعدگی سے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں۔
پاکستان نے جمعے کو کہا کہ وہ افغانستان کے حوالے سے اسلام آباد میں ہونے والی ایک اہم کانفرنس ملتوی کر رہا ہے۔
تاہم دوحہ میں مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہونے جا رہا ہے اور سینیئر حکومتی اہلکار جمعے کی دوپہر کو کابل روانہ ہو رہے ہیں۔
غیرملکی فوجی دو دہائیوں تک افغانستان میں رہے، لیکن وہ اگلے مہینے کے آخر تک انخلا مکمل کرنے والے ہیں۔
حالیہ مہینوں میں وہ منظر سے غائب رہے ہیں، لیکن خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فضائیہ کی مدد کے بغیر طالبان غالب آ جائیں گے۔
طالبان کی پیش قدمی کی رفتار دیکھ کر کچھ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ لگتا ہے طالبان حکومت کو مجبور کر رہے ہیں کہ یا تو وہ ان کی شرائط پر امن کی پیشکش قبول کرے یا پھر مکمل فوجی شکست کا سا منا کرے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لارو نے جمعے کو کہا کہ وائٹ ہاؤس نے فوج کے انخلا کو ’مثبت رنگ‘ دینے کی کوشش کی (فوٹو اے ایف پی)
روس کا موقف
دوسری جانب روس نے جمعے کو کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں ناکام ہوا ہے اور افغانستان کی صورتحال غیرملکی افواج کے انخلا کے باعث بگڑی۔
اے ایف پی کے مطابق روس کے وزیر خارجہ سرگئی لارو نے جمعے کو کہا کہ وائٹ ہاؤس نے فوج کے انخلا کو ’مثبت رنگ‘ دینے کی کوشش کی۔
ازبکستان میں میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’لیکن ہر کوئی سمجھتا ہے کہ مشن فیل ہو گیا۔‘
اس سے قبل روس کے وزیر خارجہ نے افغانستان کی خراب صورتحال کی ذمہ داری امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا پر ڈالتے ہوئے خبردار کیا کہ عدم استحکام ہمسایہ ممالک تک پھیل رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’حالیہ دنوں میں افغانستان میں صورتحال کو ابتر ہوتے دیکھا۔ نیٹو اور امریکی فوج کے جلدی میں ہونے والے انخلا کے بعد اس ملک کا سیاسی اور فوجی مستقبل غیریقینی کا شکار ہے۔‘
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے روس نے ماسکو میں طالبان وفد کی میزبانی کی تھی جہاں طالبان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ملک کے 85 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔