سلیٹ کا اسکول سے دکان تک کا سفر

اس کےاستعمال سےرائٹنگ پریکٹس، کاغذ کی بچت ہوتی تھی

Your browser does not support the video tag.

اسکولوں میں استعمال ہونے والی سلیٹ اب کلاس رومز میں نہیں بلکہ کہیں اور ہی نظر آتی ہے۔

آج کل کے ٹیبلیٹ کی شکل سے ملتی جلتی سلیٹ کاغذ کا خرچہ بچاتی تھی اور پریکٹس بھی خوب کراتی تھی لیکن اب وہ بچوں کے اسکول بیگ سے نکل کر سبزی، گوشت و دیگر دکانوں میں جا پہنچی ہے۔تاہم ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ سلیٹ کا وجود اب بھی باقی ہے۔ آج کے تعلیمی نظام نے تختی، سلیٹ کا خاتمہ کر کے جو اخراجات بڑھائے ہیں انہیں بچانے کا ہنر یہ دوکاندار جانتے ہیں۔ اب دن بھر بیشتر دوکاندار اشیائے خور و نوش کے بدلتے ریٹ اس پر لکھتے ہیں۔ایک دوکاندار اللہ رکھا کا کہنا ہے کہ میں نے کبھی بچپن مین لکھا نہیں اور نہ ہی اسکول گیا لیکن میں نے سلیٹ پر چیزوں کے ریٹ لکھنا سیکھ لیے۔جن لوگوں نے اپنے اسکول کے زمانے میں سلیٹ استعمال کی ان کی بچپن کی یہ یادیں تو کہیں کھو چکی ہیں لیکن کسی دکان پر ایسی سلیٹ دیکھ کر شاید ان کا دل بھی پکار اٹھتا ہو کہتختی قلم، سلیٹ، سیاہ تختہ کہیں سے لاعہد گزشتہ میرا وہ بستہ کہیں سے لا

متعلقہ خبریں