سندھ اسمبلی: 18سال کی عمر میں لازمی شادی کابل مسترد

سندھ اسمبلی نے ایم ایم اے کے رکن اسمبلی سید عبدالرشید کی جانب سے پیش کیا گیا 18 سال کی عمر میں لازمی شادی کا بل مسترد کردیا۔

سندھ اسمبلی میں منگل کو 18سال کی عمر کے نوجوانوں کی لازمی شادی کا بل پیش کیا گیا۔ بل پیش کرتے وقت متحدہ مجلس عمل کے ایم پی اے سید عبدالرشید نے کہا کہ ’’آگیا وہ شاہکار جس کا انتظار تھا‘‘، میرے بل کی وجہ سے آج دیگر غیر سرکاری بل بھی اسمبلی میں پیش ہوگئے۔

بل میں تجویز دی گئی ہے کہ 18 سال کی عمر کو پہنچنے والے لڑکے لڑکیوں کی شادی نہ کرانے پر والدین پر جرمانہ عائد کیا جائے، اور والدین سے اپنے بچوں کی شادی نہ کرانے کی صورت میں تحریری ٹھوس جواز بھی طلب کیا جائے۔

مزید جانیے: سندھ میں18سال تک کےنوجوانوں کی شادی لازمی کرائی جائے،رکنِ اسمبلی کی تجویز

صوبائی وزیر پارلیمانی امور مکیش چاؤلہ نے لازمی شادی ایکٹ کے زیر غور قانون کی مخالفت کردی، جس پر سید عبدالرشید نے ان سے کہا کہ مخالفت کی کوئی ٹھوس وجہ بتائی جائے۔ مکین چاؤلہ کا جواباً کہنا تھا کہ آپ بل لانے کی وجہ بتادیں۔

اسپکر سندھ اسمبلی نے مکیش چاؤلہ کی مخالفت کے بعد لازمی شادی کا بل مسترد کردیا۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل 15 جون تک ملتوی کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سلیبرٹیزنےسندھ میں لازمی شادی کابل مذاق قراردے دیا

اس سے قبل 26 مئی کو اپنے ایک ویڈیو پیغام میں رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید کا کہنا تھا کہ معاشرتی خرابیاں اور بڑھتے ہوئے وہ رجحانات جو خبر کی صورت میں سامنے آتے ہیں، ان پر قابو پانے کیلئے شریعت کے مطابق اسلام نے شادی کا حق دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کی جلد شادی کروائیں۔ امید ہے کہ تمام اراکین اسمبلی اس بل کی حمایت کریں گے اور یہ بل آسانی سے پاس ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ صوبہ سندھ میں شادی کی کم سے کم عمر 18 سال مقرر ہے، کم عمر لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کرانا قابل سزا جرم ہے۔

متعلقہ خبریں