سندھ میں ڈاکوؤں کیخلاف دہشتگردی کے کیسز درج کرنے کا فیصلہ

سندھ حکومت نے حساس آلات بھی مانگ لیے

سندھ میں ڈاکوؤں کی بڑھتی کارروائیوں پر ان کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ نے مراد علی شاہ کو صوبے میں امن وامان کيلئے ہر قسم کی مدد دینے کی بھی یقین دہانی کرائی۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے جمعرات 27 مئی کو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کی۔ وفاقی سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، ڈی جی علی نواز، مشیر قانون، چیف سیکریٹری ممتاز شاہ، آئی جی سندھ مشتاق مہر بھی ملاقات میں شریک ہوئے۔

صوبے میں امن و امان اور شکارپور میں جاری آپریشن پر گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے وفاق کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ مراد علی شاہ جو مانگیں گے ہم دیں گے، رینجرز کی آپریشن میں مدد چاہیے تو وہ بھی دیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پاکستان خطرناک ممالک کی فہرست میں چھٹے نمبر پر تھا۔ اب 126 پر ہے۔ پہلے سندھ میں جان پہچان والوں کے ساتھ سفر کرتے تھے، 2007 ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے گرینڈ آپریشن کرکے ہائی ویز کو کلیئر کروایا۔

انہوں نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ کراچی میں بھی امن و امان اتنا خراب تھا کہ نو گو ایریا بن گئے تھے۔ پورا سندھ گڈو سے کوٹری بیراج تک کچا ایریا ہے۔ صرف 5/6 کلومیٹرز کا گھنا جنگل ہے، کشمور سہہ رخی بارڈر کا شہر ہے، جو پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے بارڈرز کو آپس میں ملاتا ہے۔

مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ جنگل میں جرائم پیشہ افراد کا ڈیرہ ہے۔ دریا میں پانی آنے سے راستہ بند کردیتے ہیں۔ 23 مئی کو پولیس نے 8 مغویوں کو شکارپور کے کچے سے بازیاب کرانے کیلئے آپریشن کیا۔ اے پی سیز خراب ہونے کے باعث ڈاکوؤں نے حملہ کیا، جس میں 2 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ میڈیا نے یہ مسئلہ اچھالا، جس طرح ڈیرہ غازی خان میں لادی گینگ نے غریب لوگوں کو قتل کرکے ویڈیو جاری کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی وزیر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ وفاقی وزیر داخلہ ہیں، آپ جب بھی چاہیں آجائیں، ہم مل کر کام کریں گے، آپ کو سندھ میں ویلکم کرتے ہیں، اس پر شیخ رشید نے کہاکہ کسی بھی چیز کی ضرورت پڑے وزارت داخلہ مہیا کرے گی۔ رینجرز حاضر ہے ،جب چاہے سندھ حکومت ان کی آپریشن میں خدمات لے سکتی ہے۔

دوران بات چیت وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ہمیں کچھ حساس ساز و سامان چاہئے۔ اس کا بندوبست سندھ حکومت کررہی ہے۔ اس سازوسامان کو حاصل کرنے میں وزارت داخلہ مدد کرے، جس پر شیخ رشید نے کہا کہ امن و امان سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سندھ حکومت کو چاہئے ہم مدد کرنے کیلئے تیار ہیں۔

مراد علی شاہ اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہم جلد کچے کے علاقے سے ڈاکوؤں کا صفایا کر دیں گے۔ سندھ میں ڈاکوؤں کی بڑھتی کارروائیوں پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ڈاکوؤں کے خلاف دہشت گردی کے کیسز درج کرائے جائیں۔

واضح رہے کہ سندھ کے علاقے شکارپور میں کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف پانچویں روز بھی آپریشن جاری ہے۔ آپریشن میں کراچی سے آئے 200 پولیس کمانڈوز سمیت 700 سے زائد اہلکار شریک ہیں، ڈاکوؤں کے متعدد ٹھکانے گرا کر آگ لگا دی گئی ہے، اب تک 12 مغویوں میں سے 9 کو بازیاب کرایا جا چکا ہے۔

ایس ایس پی شکارپور امیر سعود مگسی کے مطابق کشمور اور سکھر پولیس کی جانب سے بھی کچے کی حدود میں آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں