سندھ میں کرونا ویکسین میں کمی وفاق کی ذمہ داری ہے،مرادعلی شاہ

پرسوں پنجاب کے بعد منگل سے سندھ میں بھی ویکسین کے عمل میں خلل واقع ہوا

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا ہے کہ سندھ میں کرونا کی ویکسین کم ہوگئی ہے اور یہ وفاق کی ذمہ داری ہے۔

کراچی میں بدھ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی نے سندھ کو کہا تھا کہ ویکسین کی فکر نہ کریں اور ویکسین لگانے کی تعداد بڑھائیں۔ سندھ نے اس پر عمل کیا لیکن پرسوں پنجاب کے بعد منگل سے سندھ میں بھی ویکسین کے عمل میں خلل واقع ہوا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ جن ممالک میں ویکسینیشن ہوگئی ہے وہاں کاروبار کھل رہا ہے لیکن وفاقی سندھ کو ویکسین خریدنے نہیں دیتا۔ ویکسین کی سپلائی میں کمی وفاقی کی ذمہ داری ہے۔

وزيراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فيصل سلطان نے کہا ہے کہ کرونا ويکسين کی کمی چند روز کے ليے ہے اور20 جون کے بعد يہ دور ہوجائے گی اور مزید بہتری آئے گی۔

ڈاکٹر فیصل نے واضح کیا کہ جن لوگوں نے پہلی ڈوز لگوالی ہے، وہ دوسری ڈوز کے ليے پريشان نہ ہوں کیوں کہ دوسری ڈوز چند روز يا ہفتوں کی تاخير سے بھی لگوائی جاسکتی ہے۔اس تاخیر سے پہلی ڈوز کا اثر زائل نہیں ہوتا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اس وقت میں ملک میں 20 لاکھ ویکسین کی ڈوز موجود ہیں اور یہ عمل چلتا رہے گا۔

بدھ کو سماء کے پروگرام نیا دن میں بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر تیمور تالپور نے بتایا ہے کہ جو افراد کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین نہیں لگوائیں گے، ان کی موبائل فون سمز بند کرنے کےعلاوہ انھیں شوکاز نوٹس جاری کئے جائیں گے۔ اگر وہ شوکاز نوٹس پر بھی ویکسین نہیں لگواتے ہیں تو اُن کی نوکری کوبھی خطرہ ہوگا۔تیمور تالپورنےوضاحت دی کہ حکومت نے ویکسین لگوانے کے لیے کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی ہے۔

متعلقہ خبریں