سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم کی ناکامی کی وجہ کیا؟

سندھ کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں اب تک کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق شہری علاقوں میں واضح اکثریت رکھنے والی جماعت ایم کیو ایم مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔
میر پورخاص، سکھر، نواب شاہ سمیت کئی علاقوں سے ایم کیو ایم کے امیدوار اپنی نشستیں ہار گئے جو اس جماعت کے لیے ایک ’اپ سیٹ‘ ہے۔
مزید پڑھیں
سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ ایم کیو ایم کی دھڑے بندی اور پیپلز پارٹی سے اتحاد، قائد ایم کیو ایم الطاف حسین کا الیکشن سے بائیکاٹ ایم کیو ایم کی شکست کی بڑی وجوہات ہیں۔
سندھ  میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں چار ڈویژن کے 14 اضلاع میں انتخابات ہوئے جن کے غیر سرکاری و غیرحتمی نتائج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
اب تک کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی نے سندھ میں چار ڈویژنز کے 14 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ ماضی میں سندھ کے شہری علاقوں سے نشستیں حاصل کرنے والی جماعت ایم کیو ایم خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
شہری علاقوں کی میونسپل کمیٹیوں میں اب تک کل 354 میں سے 311 نشستوں کے نتائج سامنے  آچکے ہیں جن میں  پیپلز پارٹی  244 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کے بعد  جی ڈی اے 22، آزاد امیدوار  20، پاکستان  تحریک انصاف 14، جے یو آئی ف سات جبکہ دیگر جماعتوں نے 2 نشستیں جیتیں۔
ایم کیو ایم میرپور خاص، سکھر اور نواب شاہ سمیت سندھ کے کئی شہری علاقوں سے اپنے مضبوط ووٹ بینک ہونے کے باوجود کامیاب نہیں ہو سکی۔

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں چار ڈویژن کے 14 اضلاع میں انتخابات ہوئے (فوٹو: سوشل میڈیا)
ایم کیو ایم پاکستان نے اپنے سندھ میں اتحادی پیپلز پارٹی پر انتخابات میں اثر انداز ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ سندھ کے 14 اضلاع میں جو الیکشن ہوئے اس میں بدترین دھاندلی، جبر، دھونس اور تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہماری شرافت کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہم لڑنا نہیں چاہتے مگر وہ جانتے ہیں کہ ہم لڑنا جانتے ہیں۔ 24 جولائی کو ہونے والے الیکشنز میں تمام ٹاؤنز اور یوسیز تنظیمی ایمرجنسی ڈکلیئر کریں۔‘
خالد مقبول صدیقی کے بقول سرکاری وسائل کے استعمال کے ساتھ دھاندلی کی گئی اور ایم کیو ایم کی نشستیں چھینی گئیں۔ ایم کیو ایم پاکستان نے اس ضمن میں الیکشن کمیشن کو شکایت بھی کی ہے۔‘
سینیئر صحافی رفعت سعید نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایم کیو ایم کی ہار کی ایک اہم وجہ ایم کیو ایم کی تقسیم ہے۔ کراچی ضمنی انتخابات کی طرح بلدیاتی انتخابات میں بھی ایم کیو ایم کو اس کا نقصان ہو رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں میں پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دینے والی جماعت ایم کیو ایم اپنے مضبوط علاقے میرپور خاص، نوابشاہ، سکھر اور شکارپور میں بھی برتری حاصل نہیں کرسکی۔
’اس کے علاوہ ایم کیو ایم لندن کی جانب سے الیکشن کا بائیکاٹ اور پیپلز پارٹی سے اتحاد بھی ایم کیو ایم کی ناکامی کی وجہ ہیں۔ صورتحال اگر ایسی رہی تو ایم کیو ایم کے لیے آنے والے دنوں میں کراچی اور حیدرآباد میں بھی سیٹیں لینا مشکل ہوجائے گا۔‘

ایم کیو ایم پاکستان نے اپنے سندھ میں اتحادی پیپلز پارٹی پر انتخابات میں اثر انداز ہونے کا الزام عائد کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
دوسری جانب سکھر، لاڑکانہ، نواب شاہ، میرپورخاص اور سانگھڑ سمیت 14  اضلاع کی ٹاؤن کمیٹیوں میں بھی پیپلز پارٹی بھاری اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی جہاں 694 نشستوں میں سے پیپلز پارٹی نے اب تک 426 نشستیں جیت لی ہیں۔
جی ڈی اے 65،  آزاد امیدوار 62  اور تحریک انصاف صرف 10 نشستیں حاصل کر سکی ہے جبکہ جے یو آئی ف نے 8 اور  دیگر جماعتوں نے 12 نشستیں جیتیں۔
پیپلز پارٹی نے ٹاؤن کمیٹی نواب شاہ کی 56 میں سے 36 نشستیں جیت لیں تاہم ایم کیو ایم نواب شاہ کے شہری علاقے سے کوئی نشست نہیں جیت سکی۔
ٹاؤن کمیٹی میرپور خاص کی 69 میں سے 68 نشستوں کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی نے 53  نشستیں اپنے نام کر کے واضح برتری حاصل کرلی ہے جبکہ 7 نشستیں جیت کر آزاد امیدوار دوسرے  اور چار نشستیں جیت کر ایم کیو ایم تیسرے نمبر پر رہی ہے۔ 
 ٹاؤن کمیٹی سانگھڑ میں اب تک 67 میں سے 45 نشستوں کے نتائج سامنے آئے ہیں جن میں سے 32 نشستیں پیپلز پارٹی جبکہ جی ڈی اے اب تک صرف 8 نشستیں جیت سکی ہے۔
ٹاؤن کمیٹی سکھر کی تمام 17 نشستوں کے نتائج آ گئے جہاں پیپلز پارٹی 11،  آزاد امیدوار تین  اور پی ٹی آئی نے 2 نشستوں  پر کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ جی ڈی اے  ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
نو شہرو فیروز کی کل 82 میں سے 75 نشستوں کے نتائج آ گئے جن میں سے 57 نشستیں پیپلز پارٹی نے حاصل کیں جبکہ آزاد امیدوار 13، مسلم لیگ (ن)، جی ڈی اے ، ایم کیو ایم اور دیگر نے ایک، ایک نشست  لی۔