سندھ ہائیکورٹ نےآوارہ کتوں کی ویکسینیشن کی جامع رپورٹ طلب کرلی

سندھ ہائی کورٹ نے آوارہ کتوں کی ویکسینیشن کی جامع رپورٹ پیش کرنے اور ان سے متعلق ہیلپ لائن 109 بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

بدھ کو سندھ ہائی کورٹ میں آوارہ کتوں کی بہتات اور ویکسینز کی عدم فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

سرکاری وکيل نے بتايا کہ آوارہ کتوں کی ويکسینيشن سے متعلق قانون سازی ہو رہی ہے۔عدالت نے استفسار کيا کہ قانون کی منظوری کا نوٹيفکيشن کب جاری ہوگا، کتے انسانوں کو کاٹ رہے ہيں لیکن اس پرکارروائی کيوں نہيں ہورہی ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے آبزرويشن دی کہ ترک ماڈل تو يہی ہے کہ ويکسینيشن کرکے ٹيگنگ کی جائے،آپ لوگ ٹيگ کيوں نہيں لگاتے؟۔ عدالت نے سی بی سی کو شکايات نوٹ کرکے فوری کارروائی کرنے کی ہدايت کی ۔

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ فيصل کنٹونمنٹ ايريا ميں کوئی کام نظر نہيں آرہا ہے۔گلستانِ جوہر ميں کتے بھر گئے ہيں اور ملير کا بھی يہی حال ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے کے ايم سی، ڈی ايم سيز اور کنٹونمنٹ بورڈز پر برہمی کا اظہار کیا اور آوارہ کتوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

عدالت نے کتوں کی ویکسینیشن کا نوٹيفيکيشن جاری کرنے کے ليے 2 ہفتے کی مہلت ديتے ہوئے کے ایم سی اور تمام ڈی ایم سیز کو اس پر عمل يقينی بنانے کا حکم ديا۔کیس کی مزيد سماعت 17 اگست تک ملتوی کردی گئی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں منگل کو آوارہ کتوں کو مارنے کے خلاف درخواست کے کیس میں عدالت نے کراچی میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات کا مکمل ڈیٹا طلب کرلیا ہے۔

متعلقہ خبریں