سندھ ہائیکورٹ کاہرقسم کی سوشل ایپ سےجنسی اورغیراخلاقی مواد ہٹانےکاحکم

سندھ ہائی کورٹ نےٹک ٹاک سمیت ہر قسم کی سوشل ایپ سے جنسی اور غیراخلاقی مواد ہٹانے کا بھی حکم دے دیا۔

جمعرات کوسندھ ہائی کورٹ میں غیراخلاقی مواد پر ٹک ٹاک بند کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ٹک ٹاک ہی نہیں بلکہ ہرقسم کی سوشل ایپ سےغیراخلاقی مواد ہٹایاجائے۔ ملک مخالف،ہراسمنٹ جیسی ویڈیوزبھی فوری ہٹائی جائیں۔

عدالت نے مزید ریمارکس دئیے کہ غیراخلاقی مواد روکنا پی ٹی اے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ پی ٹی اے یقینی بنائے کہ غیر اخلاقی ویڈیوز اپ لوڈ نہ ہوں۔ جسٹس عرفان سعادت خان نے ریمارکس دئیے کہ اگر ویڈیوزاپ لوڈ ہوں تو فوری ہٹائی جائیں۔عدالت نے ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والوں کے بھی خلاف کارروائی کی ہدایت کی۔پی ٹی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ ٹاک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹا دیا گیا ہے۔عدالت نے کہا کہ غیر اخلاقی ویڈیو ہٹانے کے بعد درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔عدالت نے ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق درخواست نمٹا دی۔

دو جولائی کو سندھ ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔ عدالت نے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے متعلق درخواستیں جلد نمٹانے کا حکم دیا۔پی ٹی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی اے نے 30 جون  کو ٹک ٹاک کو ملک بھر میں بند کر دیا تھا۔ عدالت نے پی ٹی اے کو ایل جی بی ٹٰی سے متعلق درخواستیں بھی جلد نمٹانے کا حکم دیا۔سندھ ہائیکورٹ نے 28 جون کو ٹک ٹاک معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔ پی ٹی اے نے حکم امتناعی واپس لینے کی استدعا کی تھی۔ پی ٹی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ ایپ سے متعلق شکایت کنندہ کی درخواست پر 5 جولائی تک فیصلہ کردیں گے۔عدالت نے پی ٹی اے کو شکایت کنندہ کی درخواست پر 5 جولائی تک فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

واضح رہے کہ 28 جون کو سندھ ہائیکورٹ نے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک ایپلیکیشن فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔سندھ ہائیکورٹ میں ٹک ٹاک کیخلاف بیرسٹر اسد اشفاق اور معاذ وحید ایڈووکیٹ کی درخواست کی سماعت ہوئی جس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹک ٹاک پر غیراخلاقی اورغیراسلامی مواد رکھا جارہا ہے، پی ٹی اے کو شکایت دی تاہم تاحال کارروائی نہیں کی گئی۔سندھ ہائیکورٹ نے معاملے پر اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 8 جولائی تک جواب طلب کیا تھا۔

ٹک ٹاک کی بندش کے فیصلے پر ٹک ٹاک انتظامیہ نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاک کے پاس غیرمناسب مواد کا جائزہ لینے کا بہترین نظام موجود ہے۔ ایکشن کیلئے مضبوط پالیسیاں، طریقہ کار اور ٹیکنالوجیز موجود ہیں۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ سندھ ہائیکورٹ کےفیصلےکےبارےمیں معلومات ملی ہیں اور فی الحال اس کے مضمرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ٹک ٹاک نے اپنی پہلی سہ ماہی ٹرانسپیرنسی رپورٹ 2021 جاری کردی ۔ٹک ٹک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پالیسیوں کی خلاف ورزی  پرٹک ٹاک نے پاکستان میں 65 لاکھ  ویڈیوز ہٹائی ہیں۔نامناسب مواد ہٹائےجانے والے ممالک میں پاکستان سمیت 5 بڑے ملک شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں