سندھ ہائی کورٹ کا پاکستان بھر میں ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ میں سوشل میڈیا ایپلیکیشن ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد اپلوڈ کیے جانے کے حوالے سے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ایپ پر پاکستان بھر میں پابندی عائد کرنے کا حکم صادر کردیا ہے۔
 
مقامی وکیل بیریسٹر اسد اشفاق نےعدالت عالیہ میں درخواست جمع کروائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ  ٹک ٹاک ایپ پر غیراخلاقی اور غیر اسلامی مواد شیئر کیا جارہا ہے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے بارہا پی ٹی اے میں شکایات درج کرائی گئی مگر تاحال کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
مزید پڑھیں
جس پر عدالت نے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک اپلیکیشن فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا۔
عدالت عالیہ نے اٹارنی جنرل اور دیگر  کو نوٹس جاری  کرتے ہوئے 8 جولائی تک اس حوالے سے جواب طلب کیا ہے۔

ٹک ٹاک پر پابندی کے لیے سپریم کورٹ میں بھی درخواست

دوسری جانب ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کے لیے درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی گئی ہے۔
عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ ٹک ٹاک جرائم کو فروغ دینے کا باعث بن رہی ہے جس پر لوگ منشیات اور اسلحہ استعمال کرتے اور ویڈیوز اپ لوڈ کرتے ہیں جب کہ تعلیمی اداروں میں ٹک ٹاک کے استعمال سے ماحول خراب ہو رہا ہے۔

ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کے لیے درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی گئی ہے۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ٹک ٹاک کو جزوی طور پر بند کرکے مؤثر پالیسی سازی کی جائے اور حکومت کو مواد کو سینسر کرنے کے لیے مکینزم بنانے کا حکم دیا جائے۔
ٹک ٹاک پر پہلے کب پابندی لگی؟
خیال رہے پاکستان میں ماضی میں بھی ٹک ٹاک پر نامناسب مواد شیئر کرنے کے الزام میں پابندی لگائی جاچکی ہے۔
رواں سال مارچ میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر ٹک ٹاک ایپلی کیشن پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس وقت پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قیصررشید خان نے ٹک ٹاک کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ٹک ٹاک پر ڈالی جانے والی ویڈیوز ہمارے معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔
چیف جسٹس قیصررشید خان نے حکم  دیا تھا کہ ’ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں فحاشی پھیل رہی ہے، اس کو فوری طورپر بند کیا جائے۔‘
تاہم اپریل میں ٹک ٹاک کی جانب سے غیر اخلاقی اور نامناسب مواد ہٹانے کی یقین دہانی پر عدالت عالیہ نے پی ٹی اے کو ایپ پر سے پابندی ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ عالت کے حکم پر پی ٹی اے نے مذکورہ پابندی ہٹا دی تھی۔