سوشل میڈیا پر وزیراعظم کی دھوم، اپوزیشن کی خاموشی پر حیرت

وزیراعظم عمران خان کی قومی اسمبلی میں ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والی تقریر ان کی پارلیمنٹ میں پہلی ایسی تقریر تھی جو ہنگامہ آرائی یا شور شرابے کی نذر نہیں ہوئی اور اپوزیشن نے اسے انتہائی پرسکون انداز میں سنا۔
وزیراعظم کی ایوان میں تقریر جسے وزرا ان کے کیریئر کی بہترین تقریروں میں سے ایک قرار دے رہے ہیں اس لحاظ سے بھی منفرد تھی کہ اس میں انہوں نے سال 2014 کے بعد کی جانے والی تقریباً ہر تقریر کی طرح اپوزیشن پر الزامات یا تنقید نہیں کی بلکہ ایک سلجھے ہوئے پارلیمانی رہنما کی طرح کا طرز تخاطب استعمال کیا۔
شاید یہی وجہ تھی کہ اپوزیشن نے بھی اسے اچھے بچوں کی طرح سنا اور چند اپوزیشن ارکان نے تو ان کی تقریر کے دوران ڈیسک بجا کر داد بھی دی۔
مزید پڑھیں
اس کے پیچھے شاید سپیکر اسد قیصر اور دونوں اطراف کے پارلیمانی رہنماؤں کی بھی کاوش تھی جنہوں نے وزیراعظم کی تقریر سے قبل ایک اجلاس میں طے کیا تھا کہ اگر وزیراعظم تقریر کو بجٹ اور حکومتی اقدامات تک محدود رکھیں گے اور اپوزیشن کو نشانہ بنانے سے گریز کریں گے تو ان کی تقریر میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔
تقریر کے دوران وزیراعظم نے ایک قومی رہنما کی طرح پاکستان کے عوامی مسائل پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ خطے اور عالمی حالات پر بھی مدلل گفتگو کی ۔
انہوں نے شاید پہلی بار اپوزیشن کو ساتھ چلنے کی کھل کر دعوت دیتے ہوئے انتخابی اصلاحات پر بات چیت کی پیش کش کی۔
 انہوں نے جہاں مشکل حالات میں پاکستان کا ساتھ دینے پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کا شکریہ ادا کیا وہیں امریکہ  اور مغربی ممالک کے پاکستان کے ساتھ رویے پر شدید نکتہ چینی بھی کی۔
 وزیراعظم نے کہا کہ ’کون سا اتحادی اپنے دوست ملک کے اندر ڈرون حملے کرتا ہے، پاکستان نے امریکہ کے لیے 70 ہزار سے زائد جانوں اور اربوں ڈالر کی مالی قربانی دی مگر بدلے میں امریکہ نے شکریہ ادا کرنے کے بجائے دوغلا قرار دیا۔‘

وزیراعظم کی تقریر کے دوران جمعیت علمائے اسلام کے چند اراکین اسمبلی ڈیسک بجا کر داد دیتے رہے (فوٹو: قومی اسمبلی ٹوئٹر)
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان امریکہ کا امن میں شراکت دار تو ہو سکتا ہے مگر تنازعے میں نہیں۔‘ انہوں نے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی امریکہ نوازی پر بھی شدید تنقید کی۔
وزیراعظم نے افغانستان کے حوالے سے بھی دوستانہ تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’افغان عوام ہمارے بھائی ہیں، ہم وہاں تزویراتی گہرائی نہیں چاہتے بلکہ جو فیصلہ افغان کریں اس کے ساتھ ہیں۔‘
اسی طرح وزیراعظم نے کشمیر کے حوالے سے واضح طور پر کہا کہ ’جب تک انڈیا اس کی علیحدہ حیثیت بحال نہیں کرتا اس کے ساتھ تعلقات بحال نہیں ہو سکتے۔‘
وزیراعظم نے مستقبل میں عوام کی سہولت کے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے ان سے ٹیکس دینے کی اپیل کی اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ترغیب دی کہ وہ پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکالنے میں مدد کریں تاکہ اگر ان پر مشکل وقت آئے تو وہ اپنے ملک واپس آسکیں۔
وزیراعظم کی تقریر کو وزرا نے تو سراہا ہی مگر جمعیت علمائے اسلام کے چند اراکین اسمبلی بھی تقریر کے دوران ڈیسک بجا کر داد دیتے رہے۔

حکومتی ارکان کے علاوہ اپوزیشن نے بھی وزیراعظم عمران خان کی تقریر کو خاموشی سے سنا (فوٹو: قومی اسمبلی ٹوئٹر)
اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم کی تقریر کے دوران پارلیمنٹ میں دونوں اطراف سے جس طرح کی سنجیدگی اور بلوغت کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا وہ کب تک قائم رہے گا۔
سوشل میڈیا میں وزیراعظم کی تقریر کی دھوم، اپوزیشن کی خاموشی پر حیرت
وزیراعظم کی تقریر کے بعد ان کے حامیوں نے تو حسب سابق تعریفوں کے پل باندھ دیے مگر غیر جانبدار تجزیہ کاروں نے بھی ان کی تقریر کو سراہا۔
صحافی اجمل جامی نے لکھا کہ ’پاکستان کی حالیہ پارلیمانی سیاست میں یہ یقیناً ایک انتہائی اہم اور معنی خیز پیش رفت ہے، کپتان اپوزیشن کے بارے میں روایتی اپروچ سے ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے مجموعی طور پر دو قدم آگے جانے کے موڈ میں دکھائی دیتے ہیں۔ اپوزیشن کا جواب دلچسپ اور اہمیت کا حامل ہوگا۔‘
تین برسوں میں پہلی بار اپوزیشن کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے بامقصد بات چیت کی دعوت، جواباً اپوزیشن کی مکمل خاموشی، شور شرابا نہ ہلڑ بازی، یہ معجزہ کیسے ہوا۔؟ کیوں ہوا۔۔؟ کسے داد دی جائے۔۔۔؟
اپوزیشن کی اچانک خاموشی پر بھی دلچسپ تبصرے دیکھنے میں آئے۔  ڈان اخبار سے منسلک صحافی خلیق کیانی نے لکھا کہ بالآخر عمران خان نے اپوزیشن ممبران کو اچھے بچے بنا دیا۔
اے آر وائی سے منسلک صحافی صابر شاکر نے لکھا کہ ’نیا پاکستان نیا عمران خان نئی اپوزیشن۔ پاکستان زندہ باد
عدیل احسن نامی صارف نے لکھا کہ ایسی عوامی تقریر نہ کسی آنکھوں نے دیکھی نہ کسی کانوں نے سنی، کمال کردیا عمران خان صاحب۔
تاہم کچھ سوشل میڈیا صارفین بجلی کی بندش کی وجہ سے عمران خان کی تقریر کے باوجود ان سے ناراض ہی نظر آئے۔
افشاں مصعب نامی صارف نے لکھا کہ ’خان صاحب آپ کی برسوں پرانی تقریر کی اب اتنی بھی اہمیت نہیں رہی کہ ملک بھر میں اس ’میں میں میں‘ کے دوران لوڈشیڈنگ نہ ہو ۔بلکہ عوام پر احسان ہے کہ بجلی بند کرکے اس عذاب سے نجات دی گئی۔