سوشل میڈیا کے باعث مسئلہ فلسطین پر دنیا کی رائے بدلی، وزیراعظم

دنیا کے رویے میں تبدیلی کی وجہ سوشل میڈیا ہے

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین سے متعلق دنیا بھر میں عوامی رائے تبدیل ہو رہی ہے جو خوش آئند ہے اور اس میں سوشل میڈیا کا ایک بنیادی کردار ہے۔

جمعہ کو اپنے ایک ویڈیو پیغام میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پہلے جب اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم کرتا تھا تو یورپ میں لوگ کبھی اسرائیل پر تنقید نہیں کرتے تھے بلکہ اسی کو مظلوم سمجھتے تھے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اس تبدیلی کی اصل وجہ سوشل میڈیا ہے اگر مین اسٹریم میڈیا پر کوئی خبر سینسر بھی ہوجائے تو سوشل میڈیا پر کوئی کسی خبر کو روک نہیں سکتا اس وجہ سے دنیا بھر میں فلسطین سے متعلق عوامی رائے بدل رہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی افریقا میں بھی ایسی ہی ایک تبدیلی آئی تھی جہاں دنیا بھر کی طاقتیں ایک نسل پرست حکومت کو سپورٹ کرتی تھیں مگر جب عوامی رائے بدلی تو وہ تمام شہریوں کو یکساں حقوق دینے پر مجبور ہوئے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ فلسطین پر بھی عوامی رائے تبدیل ہورہی ہے اور ایک دن آئے گا کہ فلسطینوں کو علیحدہ ملک ملے گا اور وہ بھی اسی طرح فلسطین میں رہیں گے جیسے اسرائیلی شہری وہاں رہ رہے ہیں۔وزیراعظم نے فلسطین سے متعلق پاکستانی مؤقف کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کا اسرائیل کے بننے سے اب تک ایک ہی مؤقف رہا ہے جو ہمارے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح کا تھا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ رمضان کی 27 ویں شب مسجد نبوی اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے او آئی سی پر زور دیا تھا کہ اس مسئلے پر آواز اٹھائے اور اس حوالے سے میں نے سعودی فرماں روا سے بھی بات کی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مہاتیر محمد کا پیغام اور طیب اردوان کا فون آیا اور ہم نے فلسطینی صدر محمودعباس کو یقین دلایا کہ تمام مسلم ممالک اور دنیا بھر کے انصاف پسند آپ کے ساتھ ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس کے بعد شاہ محمود قریشی کو کہا کہ وہ جنرل اسمبلی اجلاس میں جاکر معاملے کو وہاں اٹھائیں اور انہوں نے جس طریقے سے یہ مسئلہ وہاں اٹھایا وہ لائق تحسین ہے۔

متعلقہ خبریں