سپریم کورٹ کی رائے ہمارے مؤقف کی تائیدہے، وفاقی وزراء

رائے کا تیسرا پانچواں اور چھٹا پیرا ایم ہے، بابراعوان

وفاقی وزراء نے سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے کو اپنے مؤقف کی تائید قرار دے دیا۔

اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے ہمارے مؤقف کی تائید کرتی ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ الیکشن سے کرپشن ختم کی جائے اور سپریم کورٹ نے بھی الیکشن سے کرپشن ختم کرنے کی رائے دی ہے۔

وزیراعظم کے مشیر بابر اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے کا تیسرا، پانچواں اور چھٹا پیرا اہم ہے کیونکہ پیرا 3 میں کرپشن کے خاتمے کے خلاف اقدامات کا کہا گیا ہے جبکہ سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ ووٹ ہمیشہ کے لیے خفیہ نہیں ہوتا۔

بابر اعوان نے کہا کہ ویڈیو اسکینڈل میں دکھائی دے رہا ہے نوٹوں کی گنتی کیسے ہو رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے پاس دیانتداری، منصفانہ اور کرپشن سے پاک انتخابات کا اختیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں شفاف الیکشن کے لیے فیصلہ کن مرحلہ ہے جس کے لیے پارلیمان میں ہم نے بھی بات کی اور سپریم کورٹ بھی گئے۔

سینیٹ انتخابات آئین اورقانون کے تحت ہونگے،سپریم کورٹ

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے واضح ہےکہ جو ووٹ ڈالے گا وہ قابل شناخت ہوگا اور عدالتی رائے پر من و عن عمل کیا جائے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ووٹ سیاسی جماعتوں کے لیے خفیہ ہوگا لیکن الیکشن کمیشن کے لیے خفیہ نہیں ہوگا اور تمام ادارے الیکشن کمیشن سے تعاون کرنے کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارے مضبوط ہوتے ہیں تو ملک مضبوط ہوتا ہے۔

یکم مارچ کو سپریم کورٹ نے سینیٹ الیکشن پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ انتخابات آئین اور قانون کے تحت ہی ہوں گے۔ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے نہیں کرائے جا سکتے جبکہ کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

عدالت عظمی کے لارجر بینچ میں 4-1 کی اکثریت سے فیصلہ سنایا گیا جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے رائے سے اختلاف کیا۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے محفوظ رائے پڑھ کر سنائی۔

متعلقہ خبریں