سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوسکتی ہے؟

پاکستان کی قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ڈپٹی سپیکر کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد پر کل جمعے کو ووٹنگ ہوگی، جبکہ اپوزیشن کی جماعتیں سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لیے بھی پر تول رہی ہیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کے باوجود ایوان زیریں میں حکمران اتحاد کو 18 ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔
سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب بنانے یا کسی بھی اِن ہاؤس تبدیلی کے لیے اپوزیشن کو ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ق یا بلوچستان عوامی پارٹی میں سے کسی دو کو  حکمران اتحاد سے توڑنا ہوگا۔
مزید پڑھیں
عموماً یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت صرف چار ووٹوں کی برتری سے وجود میں آئی۔ قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر موجود پارٹی پوزیشن اس تاثر کی نفی کرتی ہے۔
پارٹی پوزیشن کے مطابق 342 کے ایوان میں سے پاکستان تحریک انصاف کی سربراہی میں حکمران اتحاد کے پاس 180 ارکان ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن کی کل تعداد 162 ہے جس میں دو ارکان آزاد ہیں اور اپوزیشن کے کسی فیصلے کے پابند نہیں ہیں۔
حکمران اتحاد میں تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد 156 ہے۔ اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں میں مسلم لیگ ق پانچ، ایم کیو ایم سات، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) تین، بلوچستان عوامی پارٹی پانچ اور عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کے پاس ایک ایک نشست ہے، جبکہ دو آزاد ارکان بھی حکومت کے حمایتی ہیں۔  
اپوزیشن میں پاکستان مسلم لیگ ن کے ارکان کی تعداد 84 ہے، جبکہ پیپلز پارٹی 56 ارکان کے ساتھ اپوزیشن کی دوسری اور ایوان کی تیسری بڑی جماعت ہے۔
ایم ایم اے 15، بلوچستان نیشنل پارٹی چار، عوامی نیشنل پارٹی کے پاس ایک ایک نشست ہے۔ دو آزاد ارکان بھی اپوزیشن نشستوں پر براجمان ہیں جن میں پی ٹی ایم کے محسن داوڑ اور علی وزیر بھی شامل ہیں۔
ایم ایم اے کے 15 ارکان میں سے ایک رکن کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے جو عموماً اپوزیشن اور حکومت کے درمیان معرکوں میں غیر جانبدار رہتے ہیں۔
سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے اپوزیشن کو مزید 10 ارکان کی ضرورت ہوگی۔ جس کے لیے حکمران اتحاد میں شامل چار جماعتوں میں جی ڈی اے کے علاوہ کوئی دو کو اپنے ساتھ ملانا پڑے گا یا پھر پاکستان تحریک انصاف کے اندر سے لوگوں کو توڑنا پڑے گا۔

قومی اسمبلی کے موجودہ ایوان میں 271 ارکان براہ راست منتخب ہوکر آئے ہیں (فوٹو اے ایف پی)
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق حفیظ شیخ کی شکست کے اسباب مختلف تھے اس لیے سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے حکومتی صفوں سے حمایت ملنا تقریباً ناممکن ہے۔
یاد رہے کہ 2018 میں قائد ایوان کے انتخاب کے وقت ایک سے زائد نشستوں پر ایک ہی شخصیت کی کامیابی کے باعث قومی اسمبلی کی متعدد  نشستیں خالی ہوئی تھیں۔ اس وقت عمران خان کو وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے 176 ووٹ ملے تھے، جبکہ ان کے مد مقابل شہباز شریف کو 96 ووٹ ملے تھے۔ اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے وزیر اعظم کے انتخاب میں کسی کے حق میں بھی ووٹ نہیں دیا تھا۔
مارچ میں قومی اسمبلی میں سینیٹ کی نشست پر ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے بعد وزیر اعظم نے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا تو اس وقت 340 کے ایوان میں انھیں 178 ووٹ ملے تھے۔
اس سے قبل سینیٹ کی اسلام آباد کی نشست پر یوسف رضا گیلانی اپ سیٹ کرتے ہوئے سینیٹ منتخب ہوگئے تھے۔ یوسف رضا گیلانی نے 169 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کو 164 ووٹ ملے۔
قومی اسمبلی کے موجودہ ایوان میں 271 ارکان براہ راست منتخب ہوکر آئے ہیں۔ 60 خواتین جبکہ 10 ارکان اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں پر ترجیحی فہرستوں اور براہ راست انتخابات میں ملنے والی نشستوں کے تناسب سے ایوان کا حصہ بنے ہیں۔