سیاسی تقرریوں نے ریلوے کوتباہ کردیا، چیف جسٹس گلزار احمد

Railway

فوٹو: آن لائن

چیف جسٹس  گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سیاسی تقرریوں نے ریلوے کو تباہ کر دیا جبکہ ملازمین گھر بیٹھ کر تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔

منگل 13جولائی کو ریلوے میں عارضی بنیادوں پر بھرتی ہونے والے ملازمین کی مستقلی کے کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ عدالت عظمیٰ نے 250 ملازمین کو مستقل کرنے کا سروسز ٹربیونل فیصلہ معطل کر دیا۔

کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ عارضی بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر کی جاتی ہیں اور اسی غیر پیشہ ورانہ رویے کی وجہ سے آج پاکستان ریلوے کا یہ حال ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ملازمین گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں لیتے ہیں اسی وجہ سے تو ریلوے میں اتنے حادثات ہوتے ہیں۔ اب بھی ہر مہینے سینکڑوں کی تعداد میں عارضی بھرتیاں ہوتی ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ریلوے حکومتی ادارہ ہے تو بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر کیوں کی جاتی ہیں؟ ریلوے کی 80 فیصد آمدن تنخواہوں اور پینشن میں چلی جاتی ہے۔

عدالت نے مستقل ہونے والے ملازمین کے خلاف ریلوے کی درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لی۔