سیاسی مقدمات میں ریلیف، کیا سب کو لیول پلیئنگ فیلڈ مل رہی ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق اگلے الیکشن کے دوران انتخابی مہم کے وقت معلوم ہوگا کہ سب کو برابر موقع ملتا ہے۔ فوٹو: سکرین گریب

پاکستان میں سیاست ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جب ملک کی مختلف جماعتوں کو بظاہر سیاسی مقدمات میں ریلیف مل رہا ہے۔ سیاستدانوں پر کسے گئے قانونی شکنجوں میں نرمی کے بعد ایک دوسرے پر این آر او لینے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ تحریک انصاف مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کو این آر او ٹو قرار دے رہی ہے۔  
مزید پڑھیں
حالیہ دنوں میں عدالتوں سے سیاسی مقدمات میں جو نمایاں فیصلے آئے اُن میں مریم نواز کا ایون فیلڈ ریفرنس سے بری ہونا اور پاسپورٹ واپس ملنا جبکہ احسن اقبال کا نارووال سپورٹس کمپلیکس کیس سے بری ہونا شامل ہے۔
اسی طرح عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا یکسر ختم کیا جانا جبکہ ان کے وکیل ابھی تک کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے غیر مشروط معافی کبھی نہیں مانگی۔ اور اس کے ساتھ پنجاب کے وزیراعلٰی کے بیٹے مونس الہی کے خلاف ایف آئی اے کے مقدمے کو لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے خارج کر دینا بھی اہم ہے۔
منگل کے روز سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا کی نااہلی کے مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کے تاحیات نااہلی سے متعلق ریمارکس اور نواز شریف کی ممکنہ وطن واپسی کو بھی ’سیاسی ماحول سازگار‘ بنائے جانے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ صحافی و تجزیہ کار اجمل جامی سمجھتے ہیں کہ ’پاکستان کے مقتدر حلقوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلینگ فیلڈ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اور اس حوالے سیاسی جماعتوں کو ریلیف ملنا شروع ہو چکا ہے۔‘
اجمل جامی کے مطابق ’اصل میں پاکستان کے حالات اس ڈگر پر پہنچ چکے ہیں کہ ’مقبول‘ و غیر مقبول تمام سیاسی قائدین کسی نہ کسی وجہ سے مجبور ہیں کہ تعاون کریں۔ مقتدر حلقے یہ بات جان چکے ہیں اس لیے لیول پلینگ فیلڈ کے بدلے سیاسی استحکام قائم کرنے توقع کی جا رہی ہے۔‘  
ان کا کہنا ہے کہ اس وقت سوائے عمران خان کے کوئی بھی لڑائی کے موڈ میں نہیں اور خان صاحب بھی جانتے ہیں کہ جو ان کی ’ڈیمانڈز‘ ہیں وہ ایک حد تک ہی پوری ہو سکتی ہیں۔ اس لیے وہ اس وقت ’انگیجمنٹ‘ میں آ چکے ہیں۔ اور خود انہوں نے یہ بات بتائی ہے۔‘  
صحافی اور تجزیہ کار عادل شاہزیب مگر اس کو اور طرح سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’مقدمات میں بری ہونا اور پاسپورٹ ملنا یہ لیول پلینگ فیلڈ نہیں بلکہ پہلے سے کی گئی سیاسی زیادتیوں کا ازالہ کیا جا رہا ہے۔‘

عمران خان الزام لگاتے ہیں کہ ن لیگ کے رہنماؤں کو این آر او دیا گیا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
ان کے مطابق ’اب یہ اوپن سیکرٹ ہے کہ عمران خان کو سنہ 2018 کے انتخابات میں جتوانے کے لیے ان کے مخالفین کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ ابھی تو صرف مقدمات ختم ہو رہے ہیں جو سیاسی انجینیئرنگ کے لیے اس وقت بنائے گئے تھے۔ ان چیزوں کو لیول پلینگ فیلڈ کی ٹرم سے سپن کرنا زیادتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اگر آنے والے انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان الیکشن کمپین کا حصہ ہوتے ہیں اور وہ سیاسی جماعتیں جن کو نان سٹیٹ ایکٹرز انتخابی مہم کے دوران دھمکاتے ہیں، یہ نہ ہو تو اُس صورت میں کہا جائے گا کہ 2023 کے انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلینگ فیلڈ دی گئی ہے۔
عادل شاہزیب کا کہنا تھا کہ ’ویسے بھی جو کچھ عمران خان صاحب اس وقت تک کر چکے ہیں کسی اور سیاسی جماعت نے کیا ہوتا تو ان پر زمین تنگ ہو جاتی۔ میرے خیال میں خان صاحب کی فیلڈ تو پہلے ہی لیول ہے۔ ہاں باقیوں کو بھی ہموار میدان ملا تو اچھی بات ہو گی۔‘