سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رواں ماہ ’40 ہزار بچوں کی پیدائش متوقع‘

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سیلاب سے مرنے والے 1400 افراد میں سے 500 بچے تھے۔ فوٹو: اے ایف پی

پاکستان میں سیلاب سے بدترین تباہی نے نوزائیدہ بچوں اور ماؤں کو بھی متاثر کیا ہے جن کو طبی امداد کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ’رواں ماہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 40 ہزار کے لگ بھگ خواتین بچوں کو جنم دیں گی۔‘
مزید پڑھیں
سندھ کے علاقے مہر کی عائشہ اربیلو گزشتہ ہفتے درد سے کراہ رہی تھی جب اہلخانہ اُن کو ہسپتال لے گئے جہاں آپریشن کے بعد انہوں نے بیٹی شہزادی کو جنم دیا۔
عائشہ اربیلو کا خاندان اب سیلاب سے متاثرہ علاقے میں ایک کیمپ میں پناہ لیے ہوئے ہے جبکہ اُن کے شوہر روزگار کے سلسلے میں صوبہ پنجاب میں مقیم ہیں۔
عائشہ اربیلو نے روئٹرز کو بتایا کہ ’کبھی ہمارے پاس دو دن کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تو بچے کو دودھ کیسے پلاؤں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں خود بیمار ہوں اور بچہ بھی صحت مند نہیں۔ ہسپتال سے ادویات ملی ہیں۔ خدا نے چاہا تو بیٹی ٹھیک ہو جائے گی۔‘
اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ نے کہا ہے کہ ’سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد میں ایک لاکھ 38 ہزار حاملہ خواتین ہیں۔‘
حکام کو رواں ماہ بچوں کو جنم دینے والی 40 ہزار خواتین کے لیے موبائل طبی ٹیمیں اور عارضی ہسپتالوں کے قیام کی سہولت فراہم کرنے کے لیے وقت پر کچھ کرنا ہوگا۔
عائشہ اربیلو کی بیٹی شہزادی کا طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹر عبدالرؤف نے بتایا کہ ’بچی کو بنیادی طور پر یہ مشکل ہے کہ ماں چھاتی سے دودھ نہیں پلا سکتی۔ غذائی کمی کے باعث ماں کا دودھ میسر نہیں۔‘
ڈاکٹر کے مطابق اُن کے پاس اس طرح کے مریض آتے ہیں جن کے بچے چھ ماہ سے کم عمر کے ہیں اور ماؤں کا دودھ میسر نہیں۔

اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقے میں ایک لاکھ 38 ہزار حاملہ خواتین ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
انہوں نے بتایا کہ اسی طرح دیگر بیماریاں بھی خوراک کی کمی یا بہتر غذا کی عدم دستیابی کی وجہ سے حملہ آور ہوتی ہیں۔
امدادی تنظیموں کو خدشہ ہے کہ جیسے سیلابی پانی اترے گا دیگر بیماریاں پھیلیں گی جن سے بچوں کو زیادہ خطرے کا سامنا ہو گا۔
سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سیلاب سے مرنے والے 1400 افراد میں سے 500 بچے تھے۔
ٹوٹی ہوئی سڑکوں، تباہ شدہ عمارتوں اور بہہ جانے والوں پلوں کے باعث متاثرین تک ہنگامی طبی امداد پہنچانے میں تاحال مشکلات درپیش ہیں۔