سیلاب کی صورتحال بتانےوالےادارے انتہائی فعال ہوگئے

مختلف اداروں سے ملنے والے اعدادوشمار مرتب کئے جاتے ہیں

Your browser does not support the video tag.

مون سون بارشوں کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان کے مختلف دریاؤں میں سیلاب آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

فلڈ وارننگ سینٹر سمیت فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن بھی ملک میں بارشوں کے آغاز کے ساتھ ہی انتہائی فعال ہوجاتا ہے۔ یہاں مختلف اداروں سے ملنے والے اعدادوشمار مرتب کئے جاتے ہیں۔ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ سیلاب کی پیشگی اطلاع حکام اور عوام کو دینے سے انسانی جانوں کا تحفظ ممکن ہوجاتا ہے۔

ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے دریاؤں میں پانی کےبہاؤ کے بارے میں بروقت اطلاع نہ ملنے سے دریائے جہلم اور چناب کے بارے میں پیشگوئی کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اصولی طور پر بھارت کو سندھ طاس کمشنر کو پاکستان کے  دریاؤں کے بارے میں بتانا ہوتا ہے تاہم مختلف ویب سائٹس کی مدد سے ہی بھارتی دریاؤں کے بارے سیلابی پیشگوئی کی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت تربیلا اور منگلا ڈیمز میں کافی گنجائش ہونے کی وجہ سے سیلابی ریلوں سے نقصان کا بہت کم خطرہ ہے۔

متعلقہ خبریں