سینئر صحافی مرزا خرم بیگ کا کرونا کے باعث انتقال

سینئر صحافی مرزا خرم بیگ کرونا کے باعث کراچی کے ایک مقامی اسپتال میں جمعرات کو انتقال کرگئے، ان کی عمر 49 برس تھی۔ انہوں نے پسماندگان میں بیوہ اور 3 بیٹے چھوڑے ہیں۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق مرزا خرم بیگ نے 1990ء کی دہائی میں اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز نیوز ایجنسی پاکستان پریس انٹرنیشنل (پی پی آئی) سے کیا تھا، بعد ازاں وہ طویل عرصہ ایکسپریس میڈیا گروپ سے وابستہ رہے جہاں پہلے انہوں نے ایک انٹرنیٹ میگزین کے ایڈیٹر کے طور پر کام کیا اور پھر گروپ کے انگریزی روزنامے بزنس ٹو ڈے کے نیوز ایڈیٹر کے طور پر بھی اپنی خدمات پیش کیں، اس کے بعد 2010ء میں وہ ایکسپریس ٹریبیون سے وابستہ ہوگئے جہاں انہوں نے 2013ء تک بزنس ایڈیٹر کے طور پر کام کیا۔

خرم بیگ 2004ء سے 2006ء تک جنگ گروپ کے روزنامے دی نیوز سے بھی وابستہ رہے جہاں انہوں نے سٹی ایڈیٹر کے طور پر کام کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ڈان میڈیا گروپ کے نیوز چینل ڈان نیوز میں بھی بطور اسپورٹس ایڈیٹر اپنی خدمات پیش کیں، اس دوران انہوں نے ایک اسپورٹس شو کی میزبانی کے فرائض بھی انجام دیئے۔

خرم بیگ اپنے کام میں طاق ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ہنس مکھ اور با اخلاق شخص تھے اور کراچی کے صحافیوں خصوصاً کراچی پریس کلب اور کراچی یونین آف جرنلسٹس کے اراکین میں خاصے مقبول تھے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے سابق ایڈیٹر کمال صدیقی کا کہنا ہے کہ خرم بیگ کے ساتھ کام کرنا ہر ساتھی کیلئے ایک خوشگوار تجربہ ہوتا تھا اور اس کے علاوہ وہ اپنے کام میں بھی خاصے مشاق تھے۔

متعلقہ خبریں