سینیٹر سیف اللہ نیازی کو ’حراست میں لے لیا گیا‘، ایف آئی اے کی تردید

فواد چوہدری نے چیئرمین سینیٹ سے گرفتاریوں کا نوٹس لینے کا کہا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ سینیٹر سیف اللہ نیازی کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد سے حراست میں لیا ہے، تاہم اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر ایف آئی اے حکام نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حکام کے مطابق سینیٹر سیف اللہ نیازی کو حراست میں لینے کی خبریں میڈیا پر نشر کی جا رہی ہیں، ایف آئی اے نے انہیں گرفتار نہیں کیا۔
ترجمان ایف آئی اے کی جانب سے جمعے کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سینیٹر سیف اللہ خان نیازی کی سینیٹ کے احاطے سے ایف آئی اے کی جانب سے گرفتاری کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ 
مزید پڑھیں
بیان کے مطابق سینیٹر سیف اللہ نیازی کو اب تک ایف آئی کے کسی بھی ونگ نے گرفتار نہیں کیا ہے۔ 
’الیکڑانک اور سوشل میڈیا پر گرفتاری کے حوالے سے چلنے والی خبروں کی ایف آئی اے سختی سے ترید کرتا ہے۔‘
دوسری جانب ایف آئی اے نے فارن فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی کے بانی رہنما حامد زمان کو لاہور سے گرفتار کرنے کی تصدیق کی ہے۔ 
تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے گرفتاریوں کی مذمت کی ہے۔ 
انہوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’ملک میں اتنی بڑی فسطائیت کبھی نازل نہیں ہوئی، اس سے زیادہ توہین پارلیمنٹ کی ہو نہیں سکتی، چیئرمین سینیٹ کم از کم غیرت کا مظاہرہ کریں اور اس عمل کا نوٹس لیں۔‘ 
اس سے قبل پی ٹی آئی کے رہنما افتخار درانی نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اطلاع دی تھی کہ ’سینیٹر سیف اللہ نیازی کو سینیٹ کے احاطے سے اغوا کر لیا گیا ہے، پہلے بھی ان کے گھر پر حملہ کیا گیا تھا اور ذاتی سامان تحویل میں لیا گیا تھا۔‘
علاوہ ازیں ایف آئی اے کی ٹیم پی ٹی آئی کے سینیٹر طارق شفیع کو گرفتار کرنے کے لیے گزشتہ روز سے ان کے گھر پر موجود تھی۔ 
ایف آئی اے کے مطابق طارق شفیع کے خلاف کروڑوں روپے کی منتقلی کے مقدمے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور ان کے سرچ وارنٹ بھی موجود ہیں۔
سینیٹر طارق شفیع پی ٹی آئی میں فنانس بورڈ کے رکن ہیں۔