سینیٹ:کیا پیپلز پارٹی اس مرتبہ بھی زیادہ سیٹیں لےاڑےگی؟

جانیے سندھ اسمبلی سے کس کو کتنا مل سکتا ہے

سندھ ميں سينيٹ اليکشن کے دوران ايک دلچسپ معرکہ ہونے ميں جارہا ہے جس ميں صوبے کی حکمران جماعت پيپلزپارٹی نے اپنی عددی طاقت سے کہيں زيادہ سينيٹرز منتخب کرانے کی ٹھانی ہوئی ہے جبکہ وفاق ميں تحريک انصاف کی اتحادی ايم کيو ايم بھی پيپلزپارٹی سے مل کر ہی اليکشن لڑنے پر غور کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ سن 2018 کے سینیٹ الیکشن میں بھی پیپلزپارٹی اپنی عددی طاقت سے کہیں زیادہ سینیٹ کی نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 3 مارچ 2021 کو ہونے والے سينيٹ اليکشن ميں سندھ اسمبلی سے کس کو کتنی سيٹيں مليں گی۔

سندھ اسمبلی میں کل نشستیں 168 ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کے ارکان کی مجموعی تعداد 99 ہے۔ سینیٹ الیکشن میں ایک جنرل سیٹ کے لیے 24 ووٹوں کی ضرورت ہے جبکہ ٹیکنوکریٹ اور خواتین نشست کے لیے 56 ، 56 ووٹ درکار ہيں ۔

اس کا مطلب ہے کہ پیپلزپارٹی اپنی عددی قوت کے مطابق جنرل سیٹ پر 4 اور ٹیکنوکریٹ اور خواتین نشست پر ایک ایک سینیٹر ہی منتخب کراسکتی ہے۔

اگر پیپلزپارٹی اپنی عددی قوت پر ہی اکتفا کرتی ہے تو اس کے پاس جنرل نشست کے 3 اضافی ووٹ ہیں جبکہ ٹیکنوکریٹ اور خواتین نشستوں کے لیے اس کے پاس 43 ، 43 ووٹ اضافی ہیں۔

سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے ارکان کی تعداد 21 ہے یعنی اسے جنرل نشست پر ایک سینیٹر منتخب کرانے کے لیے 3 ووٹوں کی ضرورت ہے اور پیپلزپارٹی کے پاس جنرل نشستوں کے 3 اضافی ووٹ ہی موجود ہیں۔
اسی طرح ٹیکنوکریٹ اور ویمن نشست پر ایم کیو ایم اپنے 21 اور پيپلزپارٹی اپنے 43 اضافی ووٹ استعمال کر کے 2 مخصوص نشستوں پر مل کر ايک ايک سينيٹر منتخب کرا سکتی ہیں۔

اسی نمبر گیم کو دیکھتے ہوئے پیپلزپارٹی نے ایم کیو ایم کو ایک جنرل نشست اور ایک ویمن نشست دینے کی پیشکش کی ہے۔ وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے جبکہ جنرل نشست پر ايم کيو ايم کے اميدوار فیصل سبزواری نے بھی پیپلزپارٹی سے ایڈجسٹمنٹ کرنے کا اشارہ دیا ہے۔

اگر اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ تحریک انصاف سے مل کر سینیٹ الیکشن لڑنے میں ایم کیو ایم کے ہاتھ میں کیا آئے گا تو پتہ چلتا ہے کہ یہ دونوں جماعتیں مل کر جنرل نشستوں پر 3 سینیٹرز جبکہ ٹیکنوکریٹ اور ویمن نشست پر ایک ایک سینیٹر منتخب کرا سکتے ہیں۔ بالفرض تحریک انصاف ایم کیو ایم کو 2 نشستیں دینے کا وعدہ کر بھی لے تو بھی سن 2018 کی طرح ایم پی ایز کے بدکنے کا خدشہ موجود ہے۔ جبکہ پیپلزپارٹی سے مل کر سینیٹ الیکشن لڑنے میں ایم کیو ایم کے دو سینیٹر منتخب ہوجانا یقینی ہوجائے گا۔

متعلقہ خبریں